
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز براکہ جوہری توانائی پلانٹ کے بیرونی حصے کے قریب بجلی کے جنریٹر کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “دہشت گرد حملہ” اور “ناقابلِ قبول جارحیت” قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک ڈرون مغربی سرحد سے ملک میں داخل ہوا اور حملہ کیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور تابکاری کی سطح معمول کے مطابق رہی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایک خطرناک کشیدگی، ناقابلِ قبول اقدام اور ملکی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ پرامن جوہری توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات شہریوں، ماحول اور علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کرتے ہیں، اس لیے انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی فوجی سرگرمی سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے اس واقعے کو “سنگین تشویش ناک” قرار دیا۔
وفاقی ادارہ برائے جوہری ضابطہ کاری کے مطابق حملے سے براکہ پلانٹ کی حفاظت یا اس کے بنیادی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا، اور تمام چار ری ایکٹر یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
امارات نیوکلیئر انرجی کمپنی کے زیرِ انتظام یہ پلانٹ متحدہ عرب امارات کی صاف توانائی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے اور 2025 سے مکمل طور پر فعال ہے، جو ملک کی تقریباً ایک چوتھائی بجلی فراہم کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے تین ڈرونز کو نشانہ بنایا، جن میں سے دو کو تباہ کردیا گیا جبکہ ایک ڈرون بجلی کے جنریٹر سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے کہا ہے کہ حملے کے ماخذ کی تحقیقات جاری ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی بتایا ہے کہ تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے یونٹ تھری کو بجلی فراہم کی جارہی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور دفاعی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں حساس تنصیبات کی سیکیورٹی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک سنگین پیش رفت ہے۔







