
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ سوشل میڈیا اور اشتہارات میں اماراتی قومی لباس صرف اماراتی شہریوں تک محدود کرنے کا فیصلہ مقامی شناخت اور ثقافت کے تحفظ کیلئے کیا گیا۔ حکام کے مطابق غیر اماراتیوں کی جانب سے روایتی لباس اور ٹوٹی پھوٹی اماراتی بولی کے استعمال پر عوامی سطح پر شدید ناراضی پائی جارہی تھی۔
شارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر جمال محمد الکعبی نے کہا، “بہت سے لوگ ان اشتہارات سے ناخوش تھے جن میں بعض افراد اماراتی لباس پہن کر خاص طور پر رئیل اسٹیٹ کی تشہیر کرتے تھے اور غیر اماراتی لہجے میں گفتگو کرتے تھے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ “اب اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اشتہارات میں اماراتی لباس صرف اماراتیوں کیلئے مخصوص ہوگا۔” ان کے مطابق ہر قوم کے لباس کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم کسی غیر اماراتی کی جانب سے اماراتی لباس پہن کر ایسا مواد پیش کرنا جو مقامی احساسات کو مجروح کرے، قابل قبول نہیں۔
ڈاکٹر الکعبی نے بعض اشتہارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد اماراتی لباس پہن کر گاڑیوں کے شورومز میں پیسوں کی نمائش کرتے دکھائی دیتے تھے، جس سے اماراتی شناخت کا غلط تاثر پیدا ہورہا تھا۔ ان کے مطابق یہ رویہ مقامی روایات اور وقار کے منافی ہے۔
یہ پالیسی گزشتہ سال اپریل میں فیڈرل نیشنل کونسل کے اجلاس میں زیر بحث آئی تھی، جہاں ارکان نے میڈیا پلیٹ فارمز پر اماراتی ثقافت اور لہجے کی غلط نمائندگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔
کونسل کی رکن نعیمہ الشرحان نے کہا تھا کہ اماراتی ثقافتی علامات کو سطحی اور غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے، جو اس کی تاریخی اور سماجی گہرائی کی عکاسی نہیں کرتا۔
بعدازاں عبداللہ بن محمد بن بطی الحامد نے تصدیق کی کہ نئی پالیسی کے تحت کسی بھی منصوبے یا اشتہار میں اماراتی لہجے اور قومی لباس کا استعمال صرف حقیقی اماراتی شہری ہی کرسکیں گے تاکہ درست شناخت پیش کی جاسکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اماراتی قومی لباس محض لباس نہیں بلکہ ورثے، فخر اور قومی شناخت کی علامت ہے، اس لیے اس کی نمائندگی ذمہ داری اور احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔







