متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں نجی شعبے کیلئے تنخواہوں کی نئی آخری تاریخ مقرر، یکم جون 2026 سے اطلاق ہوگا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے نیا یکساں نظام متعارف کرادیا ہے، جس کے تحت تمام کمپنیوں کو ہر گریگورین مہینے کے پہلے دن تک گزشتہ مہینے کی تنخواہیں ادا کرنا لازمی ہوگا۔ نئی پالیسی کا اطلاق یکم جون 2026 سے ہوگا جبکہ اس کے بعد کی جانے والی ادائیگی تاخیر تصور کی جائے گی۔

یہ فیصلہ 12 مئی کو جاری کیا گیا، جو وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی جانب سے رواں ماہ جاری وزارتی قرارداد کے بعد سامنے آیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانا اور نجی شعبے میں قوانین پر عملدرآمد کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق وزارت میں رجسٹر تمام کمپنیوں کو تنخواہیں منظور شدہ ویج پروٹیکشن سسٹم یا وزارت کے منظور کردہ ادائیگی ذرائع کے ذریعے جاری کرنا ہوں گی۔ کمپنیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے ثبوت اور متعلقہ ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی مقررہ وقت تک کم از کم 85 فیصد تنخواہیں ادا کردیتی ہے تو اسے قوانین پر عملدرآمد کرنے والا ادارہ تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی ملازم کو اس کی مجموعی واجب الادا تنخواہ کا 85 فیصد حصہ مل جاتا ہے اور باقی رقم قانونی کٹوتیوں کے باعث روکی گئی ہو تو اسے تنخواہ وصول شدہ مانا جائے گا، تاہم ملازم کو باقی رقم کا دعویٰ کرنے کا حق برقرار رہے گا۔

نئے نظام کے تحت تاخیر کرنے والی کمپنیوں کیخلاف مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔ مقررہ تاریخ کے دوسرے دن سے خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو نوٹس اور وارننگ جاری کی جائے گی، جبکہ پانچویں دن کے بعد نئے ورک پرمٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔

اگر کمپنی گیارہویں دن تک تنخواہیں ادا نہ کرے تو اس پر انتظامی جرمانے عائد کیے جائیں گے اور کمپنی کو تیسرے درجے میں منتقل کردیا جائے گا۔ سولہویں دن کے بعد متاثرہ ملازمین کی جانب سے اجتماعی لیبر تنازع خودکار طور پر رجسٹر کیا جائے گا اور نئے ورک پرمٹ مکمل طور پر معطل ہوجائیں گے۔

اکیسویں دن کے بعد حکام کمپنی کے خلاف ایگزیکٹو آرڈر جاری کرسکتے ہیں، اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں اور ادارے کے ذمہ دار فرد پر سفری پابندی بھی عائد ہوسکتی ہے۔ مسلسل دو ماہ خلاف ورزی کرنے والی بڑی کمپنیوں کے معاملات پراسیکیوشن کو بھیجے جاسکتے ہیں۔

یہ سخت اقدامات خاص طور پر تعمیرات، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی، صفائی اور ریکروٹمنٹ کے شعبوں پر لاگو ہوں گے جہاں 25 یا اس سے زیادہ ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہوں۔

قرارداد میں بعض ملازمین اور شعبوں کو ویج پروٹیکشن سسٹم سے مستثنیٰ بھی قرار دیا گیا ہے، جن میں عدالتوں میں زیر سماعت اجرتی تنازعات والے ملازمین، مفرور قرار دیے گئے کارکن، قانونی حراست میں موجود افراد، بغیر تنخواہ چھٹی پر موجود ملازمین، سمندری کارکن، بیرونِ ملک کمپنیوں کے غیر ملکی ملازمین، مختصر مدتی پرمٹ رکھنے والے کارکن، ماہی گیری کی کشتیاں، ذاتی ٹیکسیاں، بینک اور عبادت گاہیں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق نئے قواعد سے تنخواہوں کے نظام میں شفافیت بڑھے گی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جاسکے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button