
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے برکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کو شہریوں کی زندگیوں کے لیے “جرائم پر مبنی لاپرواہی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب 17 مئی کو متحدہ عرب امارات کو تین ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جن میں سے دو کو ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ ایک ڈرون براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں بیرونی جنریٹر میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق کسی قسم کی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
انور قرقاش نے کہا کہ یہ حملہ ایک “دہشت گردانہ کارروائی” ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں بدامنی، تخریب کاری اور عدم استحکام کو فروغ دینے کی خطرناک کوشش ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا: “کوئی بھی متحدہ عرب امارات کا بازو نہیں مروڑ سکتا، نہ ہی کوئی اس کے وژن، کامیابی اور امن و استحکام کے پیغام کو کمزور کر سکتا ہے۔”
ادھر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات جو ایٹمی تحفظ کو خطرے میں ڈالیں، ناقابلِ قبول ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس حملے کو “خطرناک کشیدگی” اور “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے تمام قانونی، سفارتی اور ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
یہ نیوکلیئر پلانٹ امارات نیوکلیئر انرجی کمپنی کے تحت کام کرتا ہے، جہاں چار ری ایکٹر یونٹس ملک کی تقریباً 25 فیصد بجلی پیدا کرتے ہیں اور اسے خطے میں توانائی کے اہم منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔







