
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ صحت حکام نے کہا ہے کہ ملک ایبولا وائرس سمیت کسی بھی ابھرتی ہوئی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور وزارتِ صحت و تحفظ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ملک میں صحت سے متعلق نگرانی، حفاظتی اقدامات اور ہنگامی تیاریوں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عالمی معیار کے مطابق فوری ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افریقی ممالک میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ پر عالمی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بحرین نے جنوبی سوڈان، کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے غیر ملکی مسافروں پر 30 روزہ سفری پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ اردن نے بھی کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کے داخلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبا سے 130 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ وائرس پڑوسی علاقوں اور یوگنڈا تک بھی پھیل چکا ہے۔
یوگنڈا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہاں ایبولا کے دو کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں ایک ہلاکت بھی شامل ہے۔ یہ متاثرہ افراد کانگو سے سرحد عبور کر کے یوگنڈا پہنچے تھے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ وبا ایبولا کے “بندی بوجیو” قسم کے وائرس سے پھیلی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں، جبکہ صرف “زائر” قسم کے ایبولا وائرس کے لیے ویکسین موجود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے وبا کے پھیلاؤ کی رفتار اور شدت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پچاس برسوں میں افریقہ میں ایبولا وائرس سے 15 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ یہ بیماری انتہائی متعدی اور جان لیوا تصور کی جاتی ہے۔







