متحدہ عرب امارات

بحرین اور اردن نے ایبولا سے متاثرہ ممالک کے مسافروں کے داخلے پر پابندی لگا دی

خلیج اردو
بحرین نے ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر جنوبی سوڈان، جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے غیر ملکی مسافروں کے داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پابندی منگل سے 30 روز کے لیے نافذ العمل ہوگی۔ بحرین خلیجی تعاون کونسل کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ایبولا وائرس کے خدشے کے باعث سفری پابندیاں نافذ کی ہیں۔

دوسری جانب اردن نے بھی جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کے داخلے کو معطل کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صحت حکام نے بھی کہا ہے کہ ملک کسی بھی ممکنہ صحت کی ہنگامی صورتحال، خصوصاً ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور وزارتِ صحت و تحفظ کے مطابق ملک میں صحت کی نگرانی اور احتیاطی اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایبولا وائرس کیا ہے؟

ایبولا ایک خطرناک اور اکثر جان لیوا وائرس ہے، جو بخار، جسم درد، قے اور اسہال جیسی علامات پیدا کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیا کے ذریعے پھیلتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمہوریہ کانگو میں اب تک ایبولا سے 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 516 مشتبہ کیسز اور 33 تصدیق شدہ انفیکشن سامنے آئے ہیں۔ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے اس وبا کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس تیزی سے گنجان آباد علاقوں میں پھیل رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ وبا ایبولا کے نایاب “بندی بوجیو” وائرس سے پھیلی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی مؤثر ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔

امریکا نے بھی کانگو، جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کے سفر کے خلاف اپنے شہریوں کو اعلیٰ ترین سفری وارننگ جاری کر دی ہے، جبکہ بعض ویزا پراسیسنگ عارضی طور پر محدود کر دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button