متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا انکشاف: براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کے ڈرون عراقی حدود سے آئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے انکشاف کیا ہے کہ براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز عراقی حدود سے بھیجے گئے تھے۔

وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ 17 مئی کو براکہ پلانٹ کے قریب آنے والے تین ڈرونز سمیت گزشتہ 48 گھنٹوں میں روکے گئے تمام ڈرون عراقی علاقے سے روانہ ہوئے تھے۔

وزارت کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر 6 ڈرونز کو نشانہ بنایا، جو ملک کے اہم شہری اور حساس مقامات کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

17 مئی کو ابوظہبی کے علاقے الظفرہ میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ایک ڈرون حملے کے باعث بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔

حکام کے مطابق تین ڈرونز میں سے دو کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ تیسرا جنریٹر سے ٹکرا گیا۔ تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تابکاری کی سطح بھی مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی تصدیق کی کہ پلانٹ میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق رہی اور حفاظتی نظام متاثر نہیں ہوا۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ جوہری تنصیبات کو کبھی بھی فوجی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے خطے اور عالمی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدارتی سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ یہ “دہشت گردانہ حملہ” شہریوں کی جانوں کے لیے مجرمانہ بے حسی کا مظہر ہے اور کوئی بھی قوت یو اے ای کی ترقی، استحکام اور امن کے وژن کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو “خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرامن جوہری توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سعودی عرب، بحرین، کویت اور عمان سمیت متعدد خلیجی ممالک نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button