
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کے آغاز اور ساحلوں پر بڑھتی عوامی آمد کے پیشِ نظر حکام نے سمندری حفاظت سے متعلق آگاہی مہمات تیز کر دی ہیں، خصوصاً بچوں اور خاندانوں کی حفاظت پر زور دیا جا رہا ہے۔
رأس الخیمہ کی رہائشی امِ مروان، جنہوں نے 2018 میں پانی سے متعلق ایک حادثے میں اپنے کم عمر بیٹے کو کھو دیا تھا، نے کہا ہے کہ عوامی ساحلوں پر حفاظتی رہنمائی اور آگاہی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خاندان زیادہ محفوظ ماحول میں تفریح کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کھلے سمندر میں بچوں کی مسلسل نگرانی والدین کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہو سکتی ہے کیونکہ پانی کی صورتحال اچانک تبدیل ہو جاتی ہے اور بچے غیر محسوس انداز میں گہرے پانی کی طرف جا سکتے ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق زیادہ تر ڈوبنے کے واقعات قابلِ بچاؤ عوامل سے جڑے ہوتے ہیں، جن میں بچوں کی نگرانی میں غفلت، غیر محفوظ مقامات پر تیراکی، ساحل سے زیادہ دور جانا اور ہنگامی صورتحال میں تاخیر شامل ہیں۔
محکمہ شہری دفاع نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں پر مسلسل نظر رکھی جائے، تیراکی کے دوران توجہ نہ ہٹائی جائے اور ساحلوں پر موجود حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔
حکام نے لائف بوائز، فلوٹیشن ڈیوائسز اور لائف جیکٹس کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر لائف گارڈز یا امدادی عملے سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
متعدد والدین نے ساحلوں پر مزید لائف گارڈز، واضح سائن بورڈز اور مخصوص تیراکی زونز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گرمیوں میں ساحلی مقامات کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔







