
خلیج اردو
Tabby کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اسکول فیس کی ادائیگی بیشتر خاندانوں کیلئے مالی دباؤ کا سبب بن رہی ہے، جہاں 88 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ فیس کی ادائیگی کے وقت انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2 ہزار 814 والدین پر مشتمل سروے میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف والدین ایک ہی مرتبہ مکمل فیس ادا کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں جبکہ 90 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر ماہانہ اقساط کی سہولت میسر ہو تو ان کے بچے مزید تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔
Zenda اور ٹیبّی کے درمیان نئی شراکت داری کے تحت والدین اب ٹیوشن فیس، ٹرانسپورٹ، غیر نصابی سرگرمیوں اور دیگر تعلیمی اخراجات کو 12 ماہ تک کی اقساط میں ادا کر سکیں گے۔ کمپنیوں کے مطابق اس سہولت میں کوئی خفیہ فیس شامل نہیں ہوگی۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 97 فیصد والدین ایسے لچکدار ادائیگی نظام کو استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹیبّی کے مطابق وہ اس وقت یو اے ای میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہے جن میں Amity School Dubai، جامعات، نرسریاں اور پروفیشنل ٹریننگ سینٹرز شامل ہیں۔
ٹیبّی کے چیف کمرشل آفیسر زارک نبی نے کہا کہ یو اے ای میں خاندان پہلے ہی تعلیم کے اخراجات سنبھالنے کیلئے مختلف مالی سمجھوتے کر رہے ہیں اور یہ نظام والدین کو ایک ساتھ بڑی رقم ادا کرنے کے دباؤ سے بچانے میں مدد دے گا۔
دوسری جانب زینڈا کے شریک بانی حسیب احمد کے مطابق اس شراکت داری سے اسکولوں کیلئے فیس وصولی، ادائیگی شیڈول اور انتظامی امور زیادہ آسان اور شفاف ہو جائیں گے جبکہ والدین کو زیادہ سہولت اور انتخاب میسر آئے گا۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یو اے ای میں بڑھتے تعلیمی اخراجات کے باعث خاندان اب روایتی یکمشت ادائیگی کے بجائے لچکدار مالی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔







