
خلیج اردو
National Media Authority نے ملک بھر میں ایک نئی آگاہی مہم شروع کرتے ہوئے شہریوں اور اداروں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا یا آن لائن پلیٹ فارمز پر غیر ذمہ دارانہ مواد شیئر کرنے پر بھاری جرمانے، قید اور غیرملکیوں کیلئے ملک بدری جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
“ذمہ دار اور پیشہ ور میڈیا، محفوظ معاشرہ اور مضبوط اقدار” کے عنوان سے شروع کی گئی اس مہم کا مقصد شہریوں، میڈیا اداروں اور طلبہ کو ان قوانین سے آگاہ کرنا ہے جو آن لائن مواد کی اشاعت اور ترسیل کو منظم کرتے ہیں۔
یو اے ای قوانین کے مطابق آن لائن ہتکِ عزت، جھوٹی خبروں کی اشاعت، نفرت انگیز مواد یا کسی کی نجی معلومات اور تصاویر بغیر اجازت شیئر کرنا سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جس پر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے 10 اہم اصول واضح کیے ہیں جن پر ہر صارف کو عمل کرنا ضروری ہے۔ ان میں اسلامی مقدسات، مذاہب اور عقائد کا احترام، قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ، ریاستی اداروں اور حکومتی نظام کا احترام، اور ملک کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے والے مواد سے گریز شامل ہے۔
مزید برآں افواہوں، جھوٹی خبروں، نفرت انگیز تقاریر، تشدد پر اکسانے والے مواد اور غیر مصدقہ معلومات کی اشاعت پر سخت پابندی عائد ہے۔ قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کی نجی زندگی، تصاویر، ویڈیوز یا ذاتی معلومات کو اجازت کے بغیر شیئر کرنا بھی جرم ہے۔
National Media Authority نے اس بات پر زور دیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کی جانی چاہیے تاکہ معاشرے کی اقدار، سلامتی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر بظاہر معمولی تبصرہ یا پوسٹ بھی اگر قوانین سے متصادم ہو تو پولیس کیس میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے صارفین کو مواد شیئر کرنے سے پہلے احتیاط اور تصدیق کو یقینی بنانا چاہیے۔
یہ مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔







