متحدہ عرب امارات

بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران روایتی اور ثقافتی تحائف پیش کیے، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور

خلیج اردو
نریندر مودی نے 15 مئی کو اپنے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران اماراتی شاہی خاندان کے اراکین کو بھارت کے مختلف علاقوں کی ثقافت، دستکاری اور زرعی پیداوار کی نمائندگی کرنے والے خصوصی تحائف پیش کیے۔

یہ دورہ اُن کے پانچ ممالک کے سرکاری دورے کا پہلا مرحلہ تھا، جس میں دفاع، توانائی، شپنگ اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

بھارتی وزیراعظم نے شیخ محمد بن زاید آل نہیان کو کیسر آم، میگھالیہ کے انناس اور روگن پینٹنگ بطور تحفہ پیش کی۔ روگن پینٹنگ بھارت کے خطۂ کچھ کی ایک نایاب روایتی آرٹ ہے جس میں رنگوں اور ہاتھ کی باریک کاریگری کے ذریعے “ٹری آف لائف” جیسے علامتی ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔

اسی طرح بھارت کے شمال مشرقی علاقے کے انناس اور گجرات کے کیسر آم کو بھی تحفے میں شامل کیا گیا جو اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔

شیخہ فاطمہ بنت مبارک کو دیے گئے تحائف میں منی پور کا چک ہاؤ (بلیک رائس)، مدھیہ پردیش کا مہیشوری سلک اور کرنول کی فلیگری سلور باکس شامل تھی۔ مہیشوری سلک اپنی ہلکی ساخت، چمک اور روایتی ہاتھ کی بنائی ہوئی خوبصورتی کیلئے مشہور ہے۔

ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کو مِتھیلا ماکھانا اور کوفتگری آرٹ سے مزین رسمی خنجر پیش کیا گیا۔ یہ خنجر دھات پر سونے اور چاندی کی نفیس نقش کاری کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اور روایتی شاہی دستکاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک کے رہنماؤں کو بھی ان کے خطوں اور ثقافت کے مطابق تحائف دیے گئے جن میں روایتی پینٹنگز، دستکاری کے نمونے، کتابیں اور جی آئی ٹیگڈ زرعی مصنوعات شامل تھیں۔

یہ تحائف نہ صرف بھارت کی ثقافتی وراثت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ بھارت اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے درمیان سفارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی علامت بھی سمجھے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button