متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں حکام کب ملزمان کی شناخت عوام کے سامنے ظاہر کر سکتے ہیں؟

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بعض حساس اور ہائی پروفائل مقدمات میں حکام کی جانب سے ملزمان اور مشتبہ افراد کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل کے لیے واضح اور سخت قانونی حدود موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی جرم کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری کرنے کا اختیار صرف پراسیکیوشن یا اعلیٰ عدالتی حکام کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ عام شہریوں کے پاس۔

قانونی اختیار کس کے پاس ہوتا ہے؟

قانونی ماہر ہشام الرفاعی کے مطابق پبلک پراسیکیوشن یو اے ای کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کسی کیس کی معلومات کب اور کیسے عوام کو دی جائیں۔

ان کے مطابق بعض سنگین جرائم میں عدالتیں یہ بھی حکم دے سکتی ہیں کہ مجرم کا نام اور فیصلہ میڈیا میں شائع کیا جائے۔

شہریوں کے لیے سخت پابندیاں

ماہرین نے واضح کیا کہ اگر کوئی عام شہری بغیر اجازت کسی شخص کی تصاویر، معلومات یا الزامات آن لائن شیئر کرے تو یہ خود ایک جرم بن سکتا ہے، جس پر جرمانے اور قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کی پرائیویسی یا ساکھ کو نقصان پہنچانے پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں دی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ اگر شیئر کی گئی معلومات درست بھی ہوں۔

عوامی مفاد میں انکشاف کب کیا جاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق حکام عام طور پر ملزمان کی شناخت اس وقت ظاہر کرتے ہیں جب:

  • عوامی مفاد اور سلامتی درکار ہو
  • قومی سلامتی سے متعلق کیس ہو
  • دوسروں کو جرائم سے روکنا مقصود ہو
  • شفافیت اور ڈیٹرنس ضروری ہو

ماضی کی مثالیں

کورونا کے دوران دبئی پولیس اور پراسیکیوشن نے لاک ڈاؤن اور صحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت اور تصاویر عوام کے سامنے لائیں تاکہ دوسروں کو تنبیہ ہو سکے۔

اسی طرح بعض آن لائن جرائم اور حساس مقدمات میں بھی حکام نے مخصوص افراد کے نام جاری کیے۔

اہم قانونی اصول

ماہرین کے مطابق:

  • صرف عدالتی حکام ہی معلومات جاری کر سکتے ہیں
  • شہریوں کو خود کسی کو “بے نقاب” کرنے کا اختیار نہیں
  • آن لائن شیئرنگ یا ری پوسٹ بھی قانونی ذمہ داری بن سکتی ہے
  • پرائیویسی اور عزتِ نفس کا تحفظ قانون کی بنیادی ترجیح ہے

حساس گروہوں کا تحفظ

قانون میں نابالغوں، متاثرین اور بعض مخصوص افراد کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی بھی شامل ہے تاکہ ان کے حقوق محفوظ رہیں۔

نتیجہ

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص جرم یا خطرناک صورتحال دیکھے تو اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بجائے براہِ راست حکام کو رپورٹ کرنا چاہیے، کیونکہ غیر مجاز پبلک شیئرنگ خود قانونی جرم بن سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button