
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات سے حج 2026 کے لیے رجسٹرڈ اور منظور شدہ عازمین کے لیے روانگی سے پہلے آخری دنوں کی تیاری کا اہم مرحلہ سامان کی درست اور مکمل پیکنگ ہے۔
عازمین کو سب سے پہلے احرام کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ مردوں کے لیے دو سفید بغیر سلے کپڑے لازمی ہیں جبکہ اضافی جوڑا رکھنا بھی تجویز کیا جاتا ہے تاکہ شدید گرمی اور استعمال کے دوران آسانی رہے۔ خواتین کے لیے مخصوص احرام لباس نہیں ہوتا، لیکن ڈھیلے، سادہ اور ہلکے رنگ کے کپڑے مناسب سمجھے جاتے ہیں۔
آرام دہ جوتے بھی انتہائی ضروری ہیں کیونکہ حج کے دوران طویل پیدل چلنا پڑتا ہے، جبکہ مسجد الحرام میں جوتوں کے تحفظ کے لیے چھوٹا کپڑے کا بیگ رکھنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے۔
خوشبو اور ذاتی اشیاء
احرام کی حالت میں خوشبو والے اشیاء منع ہیں، اس لیے بغیر خوشبو والے صابن، شیمپو، لوشن اور ڈیوڈرنٹ ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ماسک، سینیٹائزر اور وِیٹ وائپس بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
طبی سامان
عازمین کے لیے چھوٹا فرسٹ ایڈ کٹ ضروری ہے جس میں ذاتی ادویات، درد کم کرنے والی دوائیں، پٹی، سن اسکرین اور ڈاکٹر کی پرچی شامل ہو۔
وزارت صحت و تحفظ نے عازمین کو خاص طور پر گردن توڑ بخار (میننجائٹس) ویکسین اور دیگر لازمی حفاظتی ٹیکے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سفری دستاویزات
پاسپورٹ، ویزا، حج پرمٹ، شناختی کارڈ اور ویکسین سرٹیفکیٹس ایک جگہ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ان کی ڈیجیٹل اور پرنٹ دونوں کاپیاں بھی ساتھ رکھی جائیں۔
اضافی ضروری سامان
عازمین کو ہلکا بیگ، پانی کی بوتل، چھتری، فولڈ ایبل جائے نماز، پاور بینک اور موبائل چارجر ساتھ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزدلفہ میں قیام کے لیے ہلکی چادر اور جمرات کے لیے کنکریاں جمع کرنے کا چھوٹا تھیلا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق نقد رقم کو مختلف جگہوں پر تقسیم کر کے رکھنا بھی محفوظ طریقہ ہے، جبکہ چھوٹے ضروری سامان جیسے کنگھی، چھوٹا ٹرمر اور لاک بھی اکثر بھول جاتے ہیں۔
جسمانی تیاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ حج صرف سامان کی تیاری نہیں بلکہ جسمانی تیاری بھی ضروری ہے تاکہ شدید گرمی اور رش میں عبادات آسانی سے ادا کی جا سکیں۔
مجموعی طور پر، بروقت اور منظم پیکنگ عازمین کے لیے سفر کو آسان اور پرسکون بنا دیتی ہے تاکہ وہ مکمل توجہ عبادات پر رکھ سکیں۔







