متحدہ عرب امارات

یو اے ای اور 4 خلیجی ممالک کا ایران کی “آبنائے ہرمز اتھارٹی” کو مسترد کرنے کا اعلان

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور چار دیگر خلیجی ممالک نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے قائم کی گئی نام نہاد “پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

یہ مشترکہ بیان وزارت خارجہ یو اے ای نے جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ اقدام خطے کے ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان پر بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب نے بھی دستخط کیے۔

اہم مؤقف

خلیجی ممالک نے واضح کیا کہ ایران کی مجوزہ اتھارٹی اور متبادل شپنگ روٹ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحری امور (IMO) کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے اقدامات آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل اور ایل این جی کی ترسیل گزرتی ہے، اس لیے اس راستے کا استحکام عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

IMO کی قرارداد

بین الاقوامی بحری تنظیم کے اجلاس میں ایک نئی قرارداد بھی منظور کی گئی جس کا خیرمقدم یو اے ای نے کیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ:

  • آبنائے ہرمز میں ڈرون، میزائل اور بارودی سرنگوں سے جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہے
  • سمندری عملے (سی فیررز) کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے
  • آزاد اور محفوظ بحری راستوں کو برقرار رکھا جائے
  • متاثرہ بحری جہازوں کے انخلا کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھایا جائے

انسانی اثرات

یو اے ای کے مطابق ان حالات کے باعث ہزاروں ملاح پھنس گئے ہیں اور بحری عملے کی حفاظت ایک فوری انسانی ترجیح ہے۔

سہیل محمد المزروعی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

نتیجہ

خلیجی ممالک نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ آمدورفت عالمی قوانین کے تحت برقرار رہنی چاہیے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button