متحدہ عرب امارات

راس الخیمہ کے المرجان آئی لینڈ میں برانڈڈ رہائشی منصوبوں کی قیمتیں چند برسوں میں دگنی ہونے کا امکان

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں واقع Al Marjan Island کے برانڈڈ رہائشی منصوبوں کی قیمتیں آئندہ چند برسوں میں دگنی ہو سکتی ہیں۔ جائیداد کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق محدود سپلائی اور بڑھتی ہوئی طلب اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ Wynn Al Marjan Resort کی متوقع افتتاحی تقریب بھی مارکیٹ کو مزید تقویت دے گی۔

ون بروکر گروپ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو عمر بن فاروق کے مطابق اس وقت آف پلان برانڈڈ یونٹس تقریباً 4,800 درہم فی مربع فٹ کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں، تاہم 2030 تک یہی قیمت 8,000 سے 10,000 درہم فی مربع فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب المرجان آئی لینڈ اور اس کے اطراف کے تمام بڑے منصوبے مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے تو ممتاز اور برانڈڈ رہائشی یونٹس کی قیمتیں موجودہ سطح سے تقریباً دوگنی ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق غیر برانڈڈ رہائشی یونٹس میں بھی اضافہ متوقع ہے، تاہم ان کی قیمتوں میں 2030 تک 30 سے 50 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق راس الخیمہ میں 2030 تک 11 ہزار سے زائد نئے رہائشی یونٹس مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حال ہی میں 474 یونٹس پر مشتمل JW Marriott Al Marjan Island Resort & Residences منصوبے کے تعمیراتی معاہدے کی تقریب میں ماہرین نے کہا کہ موجودہ ہوٹل کمروں اور رہائشی یونٹس کی تعداد مستقبل کی طلب کے مقابلے میں کم ہے۔

سیاحت کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 5.1 ارب ڈالر مالیت کا وِن المرجان ریزورٹ، جسے مشرق وسطیٰ کا پہلا انٹیگریٹڈ ریزورٹ قرار دیا جا رہا ہے، 2027 میں کھلنے کے بعد خطے، یورپ، ایشیا اور افریقہ سے بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔

Aark Developers کے چیئرمین راہول کمار گپتا کے مطابق راس الخیمہ کی جائیداد مارکیٹ ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں سیاحت، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور برانڈڈ لائف اسٹائل پراپرٹیز کی طلب اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ خریدار صرف جائیداد نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی اور عالمی معیار کے برانڈ سے وابستگی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ ساحلی علاقوں میں واقع منصوبے عمومی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button