متحدہ عرب امارات

دبئی کا بڑا اقدام، علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے اسمارٹ میڈیکل ویزا متعارف کرانے کا فیصلہ، طبی سیاحت کو فروغ ملے گا

خلیج اردو
دبئی نے علاج کی غرض سے آنے والے غیر ملکی مریضوں کے لیے "اسمارٹ میڈیکل ویزا” متعارف کرانے اور طبی خدمات کو مزید آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈنٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز دبئی اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

اس معاہدے کا مقصد طبی سیاحت کے لیے آنے والے مریضوں کو ویزا، رہائش اور علاج کی سہولتیں ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کرنا ہے تاکہ دبئی پہنچنے سے قبل، دورانِ علاج اور بعد از علاج تمام مراحل آسان اور مؤثر بنائے جا سکیں۔

معاہدے پر جنرل محمد احمد المری اور ڈاکٹر علاوی شیخ علی نے دستخط کیے۔ تعاون کے اہم شعبوں میں میڈیکل ویزا کے اجراء میں آسانی، طبی سیاحت کے فروغ اور صحت انشورنس نظام کے ساتھ بہتر رابطے شامل ہیں۔

معاہدے کے تحت دبئی ہیلتھ ایکسپیرینس سے منسلک ادارے بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کے لیے میڈیکل ویزا درخواستیں زیادہ تیزی اور سہولت کے ساتھ جمع کرا سکیں گے۔

دبئی ہیلتھ ایکسپیرینس کا آغاز 2016 میں کیا گیا تھا تاکہ دبئی کو عالمی سطح پر علاج، صحت یابی اور فلاح و بہبود کے مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم مریضوں کو بین الاقوامی معیار کے ہسپتالوں اور کلینکس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

دبئی میں میڈیکل ٹورازم ویزا 90 یا 180 دن کے لیے جاری کیا جاتا ہے، جبکہ سنگل اور ملٹی پل انٹری دونوں آپشنز دستیاب ہیں۔ اگر علاج کا دورانیہ بڑھ جائے تو ویزا میں توسیع بھی ممکن ہے۔ مریض کے لیے ضروری ہے کہ اس کی اسپانسرشپ متحدہ عرب امارات کے کسی لائسنس یافتہ طبی ادارے کے پاس ہو، جبکہ تیمارداروں کے لیے بھی علیحدہ ویزا سہولت موجود ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام دبئی کو صحت، علاج اور فلاحی خدمات کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button