متحدہ عرب امارات

بارکہ جوہری پلانٹ نے 17 مئی کے حملے کا کامیابی سے سامنا کیا، آئی اے ای اے سربراہ نے اماراتی نظامِ تحفظ کو سراہ دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے بارکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ نے 17 مئی کو بیرونی بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے کے باوجود کامیابی سے صورتحال کو سنبھال لیا۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے پلانٹ کے دورے کے بعد اماراتی حکام اور آپریٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے "آزمائش کی گھڑی میں کامیابی” قرار دیا۔

رافیل گروسی نے کہا کہ وہ واقعے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے اور ادارے کی حمایت کے اظہار کے لیے متحدہ عرب امارات آئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران تمام حفاظتی پروٹوکول مؤثر انداز میں فعال ہوئے اور عملے نے انتہائی مختصر وقت میں صورتحال کو مکمل کنٹرول میں لے لیا۔

آئی اے ای اے سربراہ کے مطابق حملہ براہِ راست ری ایکٹر پر نہیں بلکہ اس بیرونی برقی نظام پر کیا گیا تھا جو پلانٹ کے حفاظتی اور آپریشنل نظام کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ واقعہ سنگین نوعیت کا تھا، تاہم کسی بھی مرحلے پر تابکاری کا ہنگامی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی نظام کی متعدد تہیں خودکار طور پر متحرک ہو گئیں، جس سے ری ایکٹر محفوظ حالت میں رہا۔ گروسی کے مطابق، "جب تربیت یافتہ ماہرین اور مضبوط طریقہ کار موجود ہوں تو جوہری پلانٹ انتہائی محفوظ مقام ثابت ہوتا ہے۔”

متحدہ عرب امارات کے آئی اے ای اے میں مستقل نمائندے حمد الکعبی نے کہا کہ واقعے کے بعد بھی تمام ری ایکٹرز کے حفاظتی نظام معمول کے مطابق کام کرتے رہے۔ بعض یونٹس معمول کی بندش کے عمل کے تحت عارضی طور پر آف لائن ہیں جبکہ دیگر دوبارہ قومی گرڈ میں شامل ہو جائیں گے۔

رافیل گروسی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جوہری تنصیبات یا ان سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے پیچھے موجود عناصر کو اس انفراسٹرکچر کی اہمیت کا مکمل ادراک تھا، جس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

اماراتی حکام کے مطابق 2021 میں آئی اے ای اے کے تعاون سے منعقد ہونے والی ہنگامی مشقوں اور تربیتی پروگراموں نے حالیہ واقعے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب متحدہ عرب امارات اور آئی اے ای اے اس واقعے سے حاصل ہونے والے تجربات عالمی سول نیوکلیئر برادری کے ساتھ بھی شیئر کریں گے۔

بارکہ جوہری توانائی پلانٹ کے چاروں ری ایکٹرز 2024 میں مکمل طور پر فعال ہوئے تھے۔ یہ تنصیب سالانہ تقریباً 40 ٹیراواٹ گھنٹے ماحول دوست بجلی پیدا کرتی ہے اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی بجلی کی ضروریات کا تقریباً 25 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button