متحدہ عرب امارات

امریکا۔ایران جنگ بندی کے باوجود خلیج میں کشیدگی برقرار، کویت، بحرین، امارات اور لبنان متعدد حملوں کی زد میں رہے

خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ 3 جون کو کویت اور بحرین پر ہونے والے نئے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، جبکہ کویت پر حملہ جنگ بندی کے بعد کسی خلیجی ملک پر ہونے والا سب سے سنگین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کویت پر حملوں میں ایک بھارتی شہری ہلاک جبکہ کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔

یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملے کیے تھے۔ اس کے بعد خلیجی خطے میں متعدد حملے دیکھنے میں آئے جن میں شہری علاقوں، تیل کی تنصیبات، جوہری مراکز اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی کے باوجود اہم واقعات

8 اپریل: جنگ بندی کے پہلے ہی دن متحدہ عرب امارات نے 17 بیلسٹک میزائل اور 35 ڈرون تباہ کیے۔ اسی دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑے حملے کیے۔

13 اپریل: امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی، جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

18 اپریل: لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستے پر حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا، جبکہ آبنائے ہرمز میں دو بھارتی پرچم بردار تیل بردار جہاز بھی حملوں کا نشانہ بنے۔

24 اپریل: عراق سے آنے والے دھماکا خیز ڈرونز نے کویت کی شمالی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

4 مئی: متحدہ عرب امارات نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو تباہ کیا۔ فجیرہ آئل انڈسٹریز زون میں ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی اور تین بھارتی شہری زخمی ہوئے۔

7 مئی: اماراتی دفاعی نظام نے مزید 3 میزائل اور 2 ڈرونز کو روکا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بحری جھڑپیں بھی سامنے آئیں۔

17 مئی: امارات نے تین ڈرونز کا مقابلہ کیا جن میں سے ایک الظفرہ میں واقع براکہ جوہری پلانٹ کے قریب بجلی کے جنریٹر سے ٹکرا گیا، تاہم تابکاری نظام محفوظ رہا۔

22 تا 30 مئی: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں مسلسل فضائی اور زمینی حملے جاری رہے، جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

28 مئی: ایران نے امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جبکہ امریکا نے بندر عباس میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ کویت نے بھی میزائل اور ڈرون خطرات کا اعلان کیا۔

یکم جون: کویتی افواج نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

2 جون: کویت اور بحرین دونوں پر میزائل حملے کیے گئے۔ بحرین کی فضائی دفاعی فورسز نے تین میزائل تباہ کر دیے۔

3 جون: کئی رہائشی علاقوں کے اوپر 13 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔ ایرانی ڈرونز نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک، 63 زخمی اور پروازیں معطل ہو گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ جنگ بندی برقرار ہے، لیکن خطے میں جاری پراکسی حملے اور جوابی کارروائیاں اس معاہدے کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی اور وسیع تر کشیدگی کا خطرہ برقرار ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button