متحدہ عرب امارات

دبئی کے 16 سالہ طالب علم نے بھارتی امتحانی نظام کی خامیاں بے نقاب کر دیں، حکام نے تعریف کرتے ہوئے فوری اصلاحات شروع کر دیں

خلیج اردو
دبئی میں مقیم 16 سالہ طالب علم رائلن انیل نے بھارت کے دو اہم ترین داخلہ امتحانات، نیٹ اور جے ای ای ایڈوانسڈ، سے متعلق آن لائن نظام میں موجود سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی۔ تاہم بھارتی میڈیا کی بعض سنسنی خیز خبروں نے ابتدا میں ان کے اہل خانہ کو پریشان کر دیا۔

بارہویں جماعت کے اس طالب علم نے بتایا کہ جب وہ اسکول سے گھر پہنچے تو ان کے والدین نے پوچھا کہ کیا انہیں جیل جانا پڑے گا، کیونکہ پہلی خبر میں لکھا گیا تھا کہ ایک 16 سالہ نوجوان نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی ویب سائٹ ہیک کر لی ہے۔ رائلن کے مطابق انہوں نے والدین کو اصل صورتحال سمجھائی، جس کے بعد وہ ان کی ذمہ دارانہ کارروائی پر فخر محسوس کرنے لگے۔

رائلن نے کہا کہ انہیں مختلف تعلیمی پورٹلز میں موجود سکیورٹی مسائل کے بارے میں اس وقت دلچسپی پیدا ہوئی جب انہوں نے ایک اور تعلیمی پلیٹ فارم میں ہونے والی خلاف ورزی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اسی تجسس نے انہیں نیٹ اور جے ای ای کے پورٹلز کا جائزہ لینے پر آمادہ کیا۔

طالب علم کے مطابق دونوں پورٹلز میں موجود خامیوں تک رسائی حاصل کرنے میں صرف دو سے تین گھنٹے لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک پورٹل میں انتہائی کمزور لاگ اِن معلومات استعمال کی جا رہی تھیں جبکہ دوسرے میں کلاؤڈ سرور کی ترتیب میں سنگین خامی موجود تھی۔

ان کے مطابق ان خامیوں کے باعث امیدواروں کے فون نمبر، والدین کے مکمل نام، تاریخ پیدائش اور دیگر حساس معلومات خطرے میں پڑ سکتی تھیں، جو امتحانی عمل اور طلبہ کی رازداری کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا تھا۔

رائلن نے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے پہلے متعلقہ بھارتی سائبر سکیورٹی ادارے کو آگاہ کیا اور بعد ازاں اس حوالے سے سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کیں۔ ان کی پوسٹ تیزی سے وائرل ہو گئی اور معاملہ وسیع پیمانے پر زیر بحث آ گیا۔

بعد ازاں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، ابھشیک سنگھ نے رائلن سے رابطہ کیا اور خامیوں کی نشاندہی کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ طالب علم کے مطابق ان کی رپورٹ کے بعد متعلقہ مسائل کو فوری طور پر درست کر دیا گیا۔

رائلن کا کہنا ہے کہ انہیں آٹھویں جماعت سے کمپیوٹر پروگرامنگ اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی رہی ہے۔ اب وہ سائبر سکیورٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں کسی بڑی کمپنی کے چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسر بننے کا خواب رکھتے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس میں دلچسپی برقرار رکھیں۔ ان کے مطابق ویڈیو گیمز کھیلنے سے بھی انہیں کمپیوٹرز اور پروگرامنگ کی دنیا میں قدم رکھنے کی ترغیب ملی، جس نے بعد میں انہیں سائبر سکیورٹی کے میدان کی طرف راغب کیا۔

رائلن نے اپنے اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی، مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے اور ان کی پیشہ ورانہ سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ اخلاقی ہیکنگ اور ذمہ دارانہ سکیورٹی تحقیق کس طرح لاکھوں صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے اور ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button