
خلیج اردو
کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر 3 جون کو ہونے والے حملے میں جاں بحق ہونے والا 55 سالہ بھارتی شہری منظور احمد اپنے بھتیجے کی شادی میں شرکت کے لیے وطن واپس جا رہا تھا، تاہم یہ سفر اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اجین سے تعلق رکھنے والے منظور احمد تقریباً 30 برس سے کویت میں درزی کے طور پر کام کر رہے تھے اور اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کر رہے تھے۔ وہ بدھ کی صبح کویت سے ممبئی روانہ ہونے والے تھے، جہاں سے ٹرین کے ذریعے اپنے آبائی شہر پہنچنا تھا۔
اہلِ خانہ نے ان کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں اور 8 جون کو ہونے والی بھتیجے کی شادی کی خوشیاں عروج پر تھیں، لیکن اچانک پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے تمام خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔
منظور احمد کے 18 سالہ بیٹے نے بتایا کہ اس کی اپنے والد سے منگل کو آخری بار گفتگو ہوئی تھی اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری بات چیت ہوگی۔ مرحوم اپنے پیچھے اہلیہ، ایک بیٹا، دو بیٹیاں اور ضعیف والدہ کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
مرحوم کے بہنوئی محمد اسماعیل نے بھارتی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حکومتی حکام نے انہیں منظور احمد کی موت کی اطلاع دی اور میت کی وطن واپسی کے انتظامات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق خاندان ریلوے اسٹیشن پر استقبال کی تیاری کر رہا تھا لیکن اب انہیں میت وصول کرنے کے لیے گجرات جانا پڑ رہا ہے۔
بھارتی سفیر برائے کویت، پرمیتا ترپاٹھی نے کویت کے مرکزی مردہ خانے کا دورہ کیا جہاں منظور احمد کی میت رکھی گئی تھی۔ انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے بھارتی شہریوں سے بھی ملاقات کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بھارتی سفارت خانے کے مطابق میت کو جلد از جلد بھارت منتقل کرنے کے لیے کویتی حکام کے ساتھ رابطہ جاری ہے، جبکہ سوگوار خاندان کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
کویتی حکام کے مطابق حملے میں متعدد ایرانی ڈرونز نے کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ٹرمینل ون کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں منظور احمد جاں بحق اور کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے باعث فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فضا میں تباہ کر دیے گئے، تاہم بعض مقامات پر ملبہ گرنے سے نقصان ہوا۔ واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک بار پھر سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
منظور احمد کی المناک موت نے ایک ایسے خاندان کو غم میں مبتلا کر دیا جو چند دن بعد شادی کی خوشیاں منانے والا تھا، اور یہ واقعہ بیرونِ ملک محنت کرنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کی قربانیوں کی ایک دردناک یاد دہانی بن گیا ہے۔






