متحدہ عرب امارات

برطانیہ میں سعودی طالبعلم کے قتل پر تعمیراتی مزدور کو عمر قید، کم از کم بائیس سال اور چھ ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے

خلیج اردو
برطانیہ کے شہر کیمبرج میں گزشتہ سال سعودی طالبعلم محمد یوسف القاسم کے قتل کے جرم میں تعمیراتی مزدور چاس کوریگن کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ کیمبرج کراؤن کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرم کم از کم بائیس سال اور چھ ماہ قید کاٹے گا، جس کے بعد ہی پیرول کے لیے درخواست دے سکے گا۔

عدالتی کارروائی کے مطابق یکم اگست کی شام چاس کوریگن نے بیس سالہ محمد یوسف القاسم پر کچن کے چاقو سے حملہ کیا اور ان کی گردن پر وار کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود محمد موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے، تاہم کچھ فاصلے پر گر پڑے جبکہ ایک راہگیر نے فوری طور پر امدادی خدمات کو اطلاع دی۔

تین آف ڈیوٹی ڈاکٹروں اور طبی عملے نے موقع پر پہنچ کر محمد کی جان بچانے کی کوشش کی، لیکن گردن پر گہرا زخم لگنے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے اور رات بارہ بج کر انیس منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی ویڈیو نگرانی کیمرے میں محفوظ ہو گئی تھی، جس میں چاس کوریگن حملے کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوتا دکھائی دیا۔ عوامی اپیل کے بعد ایک شہری کی اطلاع پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔

محمد یوسف القاسم انگلش زبان سیکھنے کے دس ہفتوں کے پروگرام کے لیے کیمبرج آئے تھے۔ سعودی میڈیا کے مطابق وہ مستقبل میں صنعتی انجینئرنگ کے شعبے میں کیریئر بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

دو ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد جیوری نے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں چاس کوریگن کو قتل کا مجرم قرار دے دیا۔ اس نے عوامی مقام پر چاقو رکھنے کے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔

عدالت نے مجرم کے والد پیٹر کوریگن کو بھی دو سال قید کی سزا سنائی۔ استغاثہ کے مطابق انہوں نے خون آلود جیکٹ ٹھکانے لگانے اور اپنے بیٹے کو گرفتاری سے بچنے میں مدد فراہم کی تھی۔

تحقیقات کی سربراہی کرنے والے سینئر تفتیشی افسر ڈیل میپسٹیڈ نے کہا، "محمد ایک نوجوان تھے جن کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی، ان کی موت نے خاندان، دوستوں اور جاننے والوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔”

فیصلے کے بعد محمد یوسف القاسم کے اہل خانہ نے کہا کہ ان کے بیٹے کی موت نے زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا، تاہم عدالتی فیصلہ اس ہولناک قتل کی سنگینی کو تسلیم کرتا ہے۔

یہ مقدمہ ایک بار پھر چاقو سے ہونے والے جرائم اور نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق برطانیہ میں جاری بحث کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button