
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے آغاز اور بیرونِ ملک سفر میں اضافے کے پیشِ نظر ماہرینِ صحت نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کو آخری وقت تک مؤخر کرنا صحت اور سفری منصوبوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بہت سے افراد فضائی ٹکٹوں، رہائش اور ویزا کے انتظامات پر توجہ دیتے ہیں لیکن منزلِ مقصود کے طبی تقاضوں اور ضروری حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل نہیں کرتے۔ نتیجتاً انہیں روانگی سے چند دن قبل یا ویزا کے عمل کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص ویکسین لازمی یا انتہائی ضروری ہیں۔
شارجہ کے ایک ماہرِ امراضِ باطنی ڈاکٹر ملاز یبرودی نے کہا کہ بہت سے مسافر یہ سمجھتے ہیں کہ معمول کے حفاظتی ٹیکے ہر ملک کے لیے کافی ہیں، حالانکہ مختلف ممالک میں مختلف بیماریوں کے خطرات موجود ہوتے ہیں اور بعض اوقات اضافی یا بوسٹر ویکسین درکار ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسافروں کو اپنی عمر، طبی تاریخ اور سفر کی منزل کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات جیسے ملک میں جہاں تعطیلات کے دوران بیرونِ ملک سفر بہت عام ہے۔
ماہرین کے مطابق عمرہ اور حج کے لیے سفر کرنے والے افراد ویکسین سے متعلق سب سے زیادہ مشورے طلب کرتے ہیں۔ ان مسافروں کے لیے گردن توڑ بخار اور موسمی انفلوئنزا کے حفاظتی ٹیکے اہم تقاضوں میں شامل ہیں۔
خاندانی طب کی ماہر ڈاکٹر قدسیہ انجم فصیح نے کہا کہ سرکاری حفاظتی پروگرام میں شامل تمام معمول کے ٹیکے بروقت مکمل ہونا ضروری ہیں، جبکہ اضافی ویکسین کا انحصار سفر کی منزل پر ہوتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بعض افریقی ممالک کے سفر کے لیے پیلے بخار کی ویکسین لازمی ہو سکتی ہے، جبکہ ایشیا کے بعض علاقوں کا سفر کرنے والوں کے لیے ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس کے حفاظتی ٹیکوں کی سفارش کی جاتی ہے کیونکہ وہاں خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین نے ملیریا سے بچاؤ کے اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اگرچہ عام مسافروں کے لیے ملیریا کی ویکسین معمول کا حصہ نہیں، لیکن بعض ممالک کے سفر سے پہلے حفاظتی ادویات اور مچھروں سے بچاؤ کے طریقوں پر ضرور غور کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایک اور عام مسئلہ یہ ہے کہ لوگ روانگی سے چند دن پہلے ویکسین لگوانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ بعض ویکسین مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے کئی ہفتے لیتی ہیں اور کچھ کے لیے ایک سے زیادہ خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔
دبئی کے ماہرِ انتہائی نگہداشت ڈاکٹر محمود مدحت ابو موسیٰ نے کہا کہ کئی مسافروں کو ویکسین کی ضرورت کا علم ویزا پراسیسنگ، ایئر لائن کی جانچ یا سفر کے بالکل آخری مرحلے میں ہوتا ہے، جس سے پریشانی اور سفری رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین، ذیابیطس، دل، سانس اور کمزور مدافعتی نظام کے مریضوں کو ہدایت کی کہ وہ روانگی سے کم از کم چار سے چھ ہفتے قبل طبی مشورہ حاصل کریں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ آخری وقت میں ویکسین لگوانے سے جسم کو مدافعت پیدا کرنے کے لیے کافی وقت نہیں ملتا، بعض ویکسین کی تمام خوراکیں مکمل نہیں ہو پاتیں اور سفر کے دوران ممکنہ مضر اثرات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ انتباہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ محفوظ اور پرسکون سفر کے لیے ویزا اور ٹکٹ کے ساتھ صحت کی پیشگی منصوبہ بندی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔







