
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت اور نمی کی سطح میں اضافے کے ساتھ بچوں کی بیرونی کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے والدین اور ماہرین میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹینس، فٹبال اور کرکٹ جیسے کھیلوں کی تربیت جاری ہے، تاہم والدین بچوں کی صحت، پانی کی کمی اور گرمی کے اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
کھیلوں کے کوچز کا کہنا ہے کہ مناسب نگرانی، درست اوقات اور مرحلہ وار تربیت کے ذریعے بچوں کو گرمی کے ماحول سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مکمل طور پر بیرونی سرگرمیوں سے گریز بچوں کی جسمانی نشوونما اور حقیقی مقابلوں کے لیے تیاری کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب کئی والدین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے دوران دوپہر یا ابتدائی سہ پہر میں ہونے والی تربیتی سرگرمیاں بچوں کے لیے مشکل ثابت ہو سکتی ہیں۔ بعض والدین نے مشاہدہ کیا ہے کہ بچے صرف ایک گھنٹے کی تربیت کے بعد بھی شدید تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں مکمل بحالی میں کافی وقت لگتا ہے۔
ڈاکٹر ماماتا بوتھرا نے کہا کہ بچوں کے جسم بالغ افراد کے مقابلے میں درجہ حرارت کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کر پاتے، اسی لیے وہ گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر معمولی تھکن، کارکردگی میں اچانک کمی یا سستی گرمی کے دباؤ کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو اور نمی 60 فیصد سے اوپر چلی جائے تو بیرونی کھیلوں کی سرگرمیوں کو محدود یا دوسرے اوقات میں منتقل کر دینا چاہیے۔ خاص طور پر گرمیوں میں دوپہر کے وقت تربیتی سیشنز خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے صبح سویرے یا غروب آفتاب کے بعد کھیلوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر نوین راجو کے مطابق کم عمر بچوں میں خاموشی، چڑچڑا پن، غیر معمولی تھکن، پیٹ درد یا سر درد گرمی کے اثرات کی علامات ہو سکتی ہیں۔ جبکہ بڑے بچوں میں چکر آنا، متلی، پٹھوں میں کھچاؤ، ذہنی الجھن اور توجہ میں کمی خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین صحت نے ہدایت کی ہے کہ کھیلوں کے دوران ہر 15 سے 20 منٹ بعد پانی پینے کا وقفہ دیا جائے، چاہے بچے کو پیاس محسوس نہ ہو۔ سایہ دار آرام گاہوں، ٹھنڈے تولیوں، پانی کے اسپرے اور ایئر کنڈیشنڈ ریکوری ایریاز کا استعمال بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بچے کو قے، بے ہوشی، ذہنی الجھن، لڑکھڑاہٹ یا شدید گرمی میں پسینہ آنا بند ہو جائے تو فوری طور پر سرگرمی روک کر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔







