
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں فضائی کرایوں میں نمایاں اضافے، سکیورٹی خدشات اور کاروباری اخراجات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث کمپنیوں نے ایک بار پھر آن لائن اجلاسوں اور ورچوئل ملاقاتوں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق کووڈ-19 وبا کے دوران شروع ہونے والا آن لائن اجلاسوں کا رجحان اب مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کاروباری سفر بڑی حد تک وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آ گیا تھا، تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگ کے اثرات نے اداروں کو سفری پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
جی آر جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد اسامہ نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران بیشتر کمپنیوں نے صرف انتہائی ضروری کاروباری سفر کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق فضائی کرایوں میں اضافہ ایک عنصر ضرور ہے، لیکن اصل وجوہات میں سکیورٹی خدشات، سفری ہدایات اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے باعث منافع پر پڑنے والا دباؤ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں وبا کے بعد 35 سے 55 فیصد اجلاس مستقل طور پر آن لائن منتقل ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد صرف 20 سے 25 فیصد اہم بالمشافہ ملاقاتیں دوبارہ شروع ہوئی ہیں جبکہ باقی 75 سے 80 فیصد اجلاس ورچوئل پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اسٹریٹجک ایرو ریسرچ کے چیف تجزیہ کار ساج احمد کا کہنا ہے کہ صرف ٹکٹوں کی قیمتیں ہی کمپنیوں کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ادارے اس خدشے سے بھی دوچار ہیں کہ اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہو جائے تو ان کے ملازمین بیرون ملک پھنس سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارچ 2026 سے امریکی، اسرائیلی اور ایرانی تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے فضائی کرایوں کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد الجابر کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں فضائی کرایوں میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دریں اثنا کارن فیری ڈیجیٹل کے یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ریجنل ڈائریکٹر وجے گاندھی نے کہا کہ بیشتر کمپنیاں اب بھی اہم کاروباری اور کلائنٹ ملاقاتوں کے لیے بالمشافہ روابط کو ترجیح دیتی ہیں، تاہم مجموعی رجحان ایک متوازن ہائبرڈ ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کارکردگی اور لاگت میں بچت کے لیے آن لائن اجلاسوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ صرف ان ملاقاتوں کے لیے سفر کیا جاتا ہے جہاں ذاتی موجودگی بہتر نتائج کے لیے ضروری ہو۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے کا کاروباری ماحول اب مستقل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور کسی بھی سفر کی منظوری سے پہلے اب بنیادی سوال یہ نہیں ہوتا کہ سفر ممکن ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ سفر واقعی ضروری ہے۔






