متحدہ عرب امارات

فٹبال ورلڈ کپ کے باعث یو اے ای کمپنیوں میں ہائبرڈ اور ریموٹ ورک کا رجحان، پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ

خلیج اردو
فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے دوران متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کی متعدد کمپنیوں نے ملازمین کے لیے ہائبرڈ ورک، ریموٹ ورک اور لچکدار اوقاتِ کار متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے، کیونکہ جون اور جولائی میں پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فٹبال کا عالمی میلہ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری رہے گا۔ میچز یو اے ای وقت کے مطابق رات 8 بجے سے صبح 8 بجے کے درمیان کھیلے جا رہے ہیں، جس کے باعث شائقین کی بڑی تعداد رات گئے تک مقابلے دیکھنے میں مصروف رہتی ہے۔

بھرتی اور انسانی وسائل کے ماہرین کے مطابق یو اے ای اور خلیجی ممالک میں فٹبال کی مقبولیت بہت زیادہ ہے، اسی لیے ملازمین اکثر اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت کے لیے سالانہ چھٹیاں بھی لیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی کئی ادارے ملازمین کو لچکدار شیڈول، گھروں سے کام کرنے کی سہولت اور اوقاتِ کار میں ردوبدل کی اجازت دے رہے ہیں۔

خلیج ٹیلنٹ کے سروے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے 84 فیصد پیشہ ور افراد ورلڈ کپ کے کم از کم کچھ میچز دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سروے میں 87 فیصد مرد اور 74 فیصد خواتین نے ٹورنامنٹ میں دلچسپی ظاہر کی۔

سروے کے مطابق میچز دیکھنے والے تقریباً نصف افراد رات گئے تک جاگ کر مقابلے دیکھیں گے، جبکہ دیگر افراد شام کے میچز پر اکتفا کریں گے۔ ملازمین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ ان کی روزمرہ کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 30 فیصد افراد کم نیند کے باوجود کام پر جائیں گے، 8 فیصد دیر سے دفتر پہنچیں گے، 8 فیصد سالانہ چھٹی لیں گے، 6 فیصد گھر سے کام کریں گے جبکہ 2 فیصد بیماری کا عذر پیش کر سکتے ہیں۔

ٹاسک آؤٹ سورسنگ کے سینئر نائب صدر پیڈرو لاسیردا نے کہا کہ وبا کے بعد ہائبرڈ اور لچکدار ورک ماڈلز عام ہونے سے کمپنیوں کے لیے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے دوران ملازمین کو سہولت دینا آسان ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ادارے اب پیداواری صلاحیت، ملازمین کے تجربے اور کاروباری تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ لچکدار پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ملازمین اپنی قومی ٹیم یا پسندیدہ ٹیم کے اہم میچز کے دوران سالانہ چھٹی، لچکدار اوقات یا شیڈول میں تبدیلی کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جدید ورک ماڈلز کی بدولت وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی پوری کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ادارے پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور واضح رابطہ برقرار رکھتے ہیں، وہ ملازمین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل بھی کامیابی سے قائم رکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button