
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں آسان قرضوں، کریڈٹ کارڈز اور "ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں” سہولیات کے بڑھتے استعمال نے بہت سے افراد کو مالی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قرض کا بوجھ عموماً اچانک نہیں بڑھتا بلکہ چھوٹے چھوٹے مالی فیصلوں کے نتیجے میں آہستہ آہستہ ایک ایسے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے جہاں اس سے نکلنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈز، ذاتی قرضے، کرائے پر خریداری کے منصوبے اور تنخواہ سے منسلک قرضے وقتی سہولت تو فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ اکثر لوگوں کو اپنی مجموعی مالی ذمہ داریوں کا درست اندازہ لگانے سے دور کر دیتے ہیں۔
الیگزینڈر ورگیز کے مطابق قرض کے جال میں پھنسنے کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ لوگ ایندھن، راشن یا دیگر بنیادی ضروریات کی ادائیگی کے لیے بھی "ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں” جیسی سہولیات استعمال کرنے لگیں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آمدنی روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک ہی وقت میں متعدد ادائیگی منصوبوں کا فعال ہونا بھی مالی دباؤ کی علامت ہے، خاص طور پر جب مختلف اقساط کی ادائیگی کی تاریخیں آپس میں ٹکرانے لگیں۔
دوسری جانب الیکسی نوزنی کا کہنا ہے کہ قرض بڑھنے کی ایک اہم نشانی یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنی مجموعی واجب الادا رقم سے لاعلم ہو جائے اور واضح طور پر نہ بتا سکے کہ مختلف قرضوں اور کریڈٹ سہولیات کے تحت اس پر کتنا بوجھ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدنی کا 25 سے 30 فیصد سے زیادہ حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہونے لگے تو یہ خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں مالی لچک کم ہو جاتی ہے اور مستقبل میں مشکلات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی نئے قرض یا اضافی کریڈٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہو تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ قرض کا بوجھ اب پائیدار نہیں رہا۔
ماہرین نے قرض کے جال سے بچنے کے لیے چند اہم مشورے بھی دیے ہیں:
- تمام اخراجات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھیں۔
- "ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں” کی سہولت صرف ایک پلیٹ فارم تک محدود رکھیں۔
- ایک وقت میں متعدد ادائیگی منصوبے شروع کرنے سے گریز کریں۔
- اقساط اور ادائیگیوں کی تاریخوں پر نظر رکھیں۔
- ایک قرض کی ادائیگی کے لیے دوسرا قرض لینے سے بچیں۔
قرض وصولی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق قرض کی عدم ادائیگی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے، جن میں بینک اکاؤنٹس منجمد ہونا، جائیداد کی ضبطی، کریڈٹ اسکور کو نقصان پہنچنا اور بعض صورتوں میں تنخواہ کا ایک حصہ قانونی طور پر ضبط کیا جانا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کے مسئلے کا بہترین حل بروقت منصوبہ بندی، اخراجات پر کنٹرول اور مالی ذمہ داریوں کی مکمل آگاہی ہے تاکہ چھوٹے قرض مستقبل میں بڑے بحران میں تبدیل نہ ہوں۔







