
خلیج اردو
دبئی کسٹمز نے ایک بڑی انٹیلی جنس کارروائی کے ذریعے منشیات کی ایک بھاری کھیپ کو اس کی منزل تک پہنچنے سے روک دیا، جس کا ہدف ایک افریقی ملک تھا۔ حکام کے مطابق تقریباً 1.332 ٹن ٹیپینٹاڈول پر مشتمل یہ کھیپ ایشیا سے فضائی کارگو کے ذریعے بھیجی گئی تھی۔
دبئی کسٹمز کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر افریقی ملک کے حکام نے اس کھیپ کو بروقت روک لیا، جس کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔
دبئی کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ بوسناد نے کہا کہ معاشروں کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی نے نہ صرف منشیات کی بڑی مقدار کو مارکیٹ میں پہنچنے سے روکا بلکہ نوجوانوں اور خاندانوں کو نشے اور جرائم کے خطرے سے بھی بچایا۔
افریقی ملک کے سیکیورٹی اور کسٹمز حکام نے دبئی کسٹمز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فراہم کردہ انٹیلی جنس اس کارروائی کی کامیابی میں بنیادی کردار رکھتی ہے۔
دبئی کسٹمز کے مطابق ان کی انٹیلی جنس ٹیمیں مسلسل ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہیں اور مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے جدید طریقے استعمال کرتی ہیں۔ ایئر کارگو مراکز میں جدید اسکیننگ ٹیکنالوجی، اے آئی بیسڈ امیج اینالیسس اور خطرات کی پیشگی نشاندہی کے نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔
کسٹمز انسپیکشن ڈویژن کے مطابق اہلکاروں کو جدید تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اسمگلنگ کے بدلتے ہوئے طریقوں اور نئی اقسام کی منشیات کی شناخت کر سکیں۔ اس کے علاوہ “اسمارٹ رسک انجن” ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے ممکنہ خطرات کی پہلے ہی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی سطح پر منشیات کی روک تھام کے لیے تعاون کی ایک اہم مثال ہے، جس نے ایک بڑی غیر قانونی کھیپ کو عالمی مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔







