متحدہ عرب امارات

سرکلر ٹیکنالوجی یو اے ای کے پائیدار مستقبل کو کیسے شکل دے رہی ہے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی نٹ زیرو 2050 حکمتِ عملی نے کاروباری اداروں کے لیے توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اب ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے مؤثر انتظام کے طریقوں کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے ادارے اے آئی سے چلنے والے آلات، ڈیجیٹل آپریشنز اور ہائبرڈ ورک فورسز کو وسعت دے رہے ہیں، ویسے ویسے ڈیوائسز کی عمر، توانائی کے استعمال اور ای ویسٹ (برقی فضلہ) جیسے مسائل زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں کاروباری ادارے اب صرف نئی ٹیکنالوجی اپنانے پر ہی توجہ نہیں دے رہے بلکہ اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آلات کو کس طرح مرمت، دوبارہ استعمال، ری فربش اور ری سائیکل کیا جا سکتا ہے تاکہ لاگت کم ہو اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو۔

ایچ پی انکارپوریٹڈ کے مطابق سرکلر ٹیکنالوجی ماڈل نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کاروباری کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پائیداری کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنا رہی ہے اور اب اسے عملی سطح پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

ایچ پی کے مطابق 2018 کے مقابلے میں سنگل یوز پلاسٹک پیکیجنگ میں 75 فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ ان کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے تقریباً ایک تہائی پلاسٹک کو ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا جا رہا ہے۔

یو اے ای میں بھی ادارے اب ٹیکنالوجی کے فیصلوں کو کارکردگی اور اخراجات کے ساتھ ساتھ پائیداری کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس رجحان کے تحت کمپنیاں ڈیوائسز کو بار بار تبدیل کرنے کے بجائے ان کی زندگی بڑھانے اور موجودہ آلات کو زیادہ مؤثر بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔

ایچ پی کا “پلانٹ پارٹنرز” پروگرام استعمال شدہ آلات کو محفوظ طریقے سے واپس لے کر ری سائیکل یا ری فربش کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ دیگر پروگرامز کاروباری اداروں کو کم کاربن آئی ٹی حکمتِ عملی اپنانے میں معاون ہیں۔

کمپنی کے مطابق یو اے ای میں ری سائیکلنگ اور ری یوز کے پروگرامز میں شمولیت بڑھ رہی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کاروبار اب صرف قیمت یا کارکردگی نہیں بلکہ ماحول پر اثر کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکلر ماڈل نہ صرف ماحولیات کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے اداروں کی لاگت کم ہوتی ہے، اثاثوں کا بہتر استعمال ہوتا ہے اور طویل مدت میں کارکردگی بھی بہتر رہتی ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال کے ساتھ توانائی اور کمپیوٹنگ وسائل کی طلب بھی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مؤثر ٹیکنالوجی مینجمنٹ مزید اہم ہو گئی ہے۔

ایچ پی انکارپوریٹڈ کے مطابق مستقبل میں وہی ادارے کامیاب ہوں گے جو ٹیکنالوجی کو صرف استعمال نہیں کریں گے بلکہ اس کی پوری زندگی—خریداری، استعمال، ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال—کو مؤثر طریقے سے منظم کریں گے۔

ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات پہلے ہی پائیدار ترقی کی سمت مضبوط قدم اٹھا چکا ہے، اور سرکلر ٹیکنالوجی اس سفر کو مزید تیز کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button