
خلیج اردو
معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ متحدہ عرب امارات کیلئے اہم معاشی فوائد لا سکتا ہے، جن میں تجارت، شپنگ لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی سے یو اے ای کی برآمدات، ری ایکسپورٹ سرگرمیاں اور لاجسٹکس شعبہ فوری طور پر مستفید ہوں گے، جبکہ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
سرمایہ کاری ماہر ویجئے ویلیچا کے مطابق یو اے ای ایک اوپن اکانومی ہونے کے باعث جغرافیائی کشیدگی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، تاہم امن کی صورتحال میں یہ سب سے تیزی سے بحال ہونے والی معیشتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران شپنگ لاگت میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا تھا، جبکہ کنٹینر شپنگ ریٹس بھی کئی گنا بڑھ گئے تھے، جو اب معاہدے کے بعد کم ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی معیشت کا بڑا حصہ لاجسٹکس، بندرگاہوں، ایوی ایشن اور ٹورازم پر مشتمل ہے، اس لیے خطرات میں کمی براہ راست ان شعبوں کو فائدہ دے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی کی جبل علی پورٹ، ڈی پی ورلڈ کا نیٹ ورک، فجیرا اور ایوی ایشن کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ بینکنگ اور انشورنس سیکٹر بھی بہتری دیکھیں گے۔
ہوائی سفر کے شعبے میں بھی تیزی کی توقع ہے، اور متحدہ عرب امارات کی ایئر لائنز کے لیے مسافروں کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس سے یو اے ای کے اخراج کے بعد ملک کو تیل کی پیداوار بڑھانے کی مزید گنجائش مل گئی ہے، جو طویل المدتی معاشی حکمت عملی کو مضبوط بناتی ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ یو اے ای کی معیشت کیلئے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات بتدریج سامنے آئیں گے۔







