
خلیج اردو
فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ میں 8 جون کو آنے والے 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے کے ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔ متاثرہ علاقوں میں روزمرہ زندگی شدید متاثر ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں فلپائنی اپنے اہل خانہ کی خیریت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
زلزلے کے باعث عمارتیں منہدم ہوئیں، لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے اور جنوبی فلپائن کے مختلف حصوں میں سونامی وارننگ بھی جاری کی گئی۔ بعد ازاں 13 جون کو 6.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا جس نے بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا۔
دبئی میں مقیم سوشل میڈیا مینیجر بینج مارلو نے بتایا کہ ان کا خاندان جنرل سانتوس سٹی میں مقیم ہے، جو زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا، "ابتدا میں ہمیں صرف اس بات پر اطمینان تھا کہ سب محفوظ ہیں، لیکن اب اصل مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ علاقے میں ابھی تک بجلی نہیں ہے، پانی کی فراہمی غیر مستحکم ہے اور رابطے محدود ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی خرابی کے باعث کئی کئی گھنٹے پیغامات موصول نہیں ہوتے۔ "ہم صرف انتظار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ سب خیریت سے ہوں گے۔”
دبئی میں مقیم پنکی آزارکون نے بتایا کہ اگرچہ ان کا خاندان کاگایان ڈی اورو میں محفوظ ہے، لیکن ان کا بیٹا جو جنرل سانتوس سٹی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، مسلسل بجلی کی بندش اور کمزور انٹرنیٹ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، "کبھی کبھی رابطہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور ہمیں سگنل آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔”
قومی اور مقامی ڈیزاسٹر اداروں کے مطابق زلزلے میں کم از کم 55 افراد ہلاک، 688 زخمی جبکہ 31 افراد لاپتا ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ آبادی کی مدد میں مصروف ہیں۔ متعدد اسپتال عارضی خیموں میں مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جبکہ مسلسل آفٹر شاکس کے باعث طبی عملہ کھلے مقامات پر بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی متاثرین کی مدد کیلئے فوری انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یو اے ای ایڈ ایجنسی کے چیئرمین Tareq Ahmed Al Ameri نے کہا کہ یہ امداد قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مشکلات کم کرنے اور بحالی کے عمل میں مدد دینے کیلئے فراہم کی جا رہی ہے۔
منڈاناؤ میں بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے اور لاکھوں افراد اب بھی بنیادی سہولیات کی بحالی کے منتظر ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی اور بیرون ملک مقیم فلپائنی خاندانوں کی بے چینی برقرار ہے۔







