
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 2026-27 کے تعلیمی سال کی تیاریوں کے ساتھ ہی نجی اور بین الاقوامی اسکولوں نے اساتذہ کی بھرتی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد، نئے اسکولوں کے قیام اور نصاب میں توسیع کے باعث مختلف تعلیمی ادارے اہل اساتذہ کی تلاش میں ہیں۔
تعلیمی اداروں کے مطابق سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مضامین، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس اور ابتدائی تعلیم کے شعبوں میں اساتذہ کی طلب سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسے اساتذہ کو ترجیح دی جا رہی ہے جو تدریسی مہارت کے ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال اور طلبہ کی ذہنی و جذباتی نشوونما پر بھی توجہ دے سکیں۔
جیمز ایجوکیشن کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈینو وارکی نے کہا کہ اب صرف تعلیمی قابلیت کافی نہیں بلکہ ایسے اساتذہ درکار ہیں جو تجسس پیدا کریں، تنقیدی سوچ کو فروغ دیں اور طلبہ کو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کیلئے تیار کریں۔
تعلیمی گروپ تعالیم کی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن نکی ولیمز کے مطابق بیشتر آسامیاں پہلے ہی پُر کی جا چکی ہیں، تاہم طلبہ کی تعداد میں اضافے کے باعث بعض شعبوں میں بھرتی کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاضی اور سائنس کے اعلیٰ معیار کے اساتذہ کیلئے مقابلہ نہ صرف امارات بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت سخت ہے۔
انڈین ہائی گروپ آف اسکولز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پنیت ایم کے واسو نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، ریاضی اور سائنس کے علاوہ ابتدائی اور پرائمری تعلیم کے شعبوں میں بھی نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے اب اساتذہ کو برقرار رکھنے کیلئے پیشہ ورانہ تربیت، قیادت کے مواقع اور فلاحی پروگراموں پر بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
دبئی کے اسپرنگ ڈیلز اسکول کے پرنسپل ڈیوڈ جونز نے کہا کہ ثانوی درجے میں نصاب کی توسیع کے باعث سماجی علوم اور مصنوعی ذہانت کے مضامین کیلئے اضافی اساتذہ درکار ہیں، جبکہ کم شرحِ تبادلہ کے باعث تدریسی معیار میں تسلسل برقرار رہا ہے۔
ووڈلم ایجوکیشن کے بانی و منیجنگ ڈائریکر نوفل احمد کے مطابق ان کے ادارے میں ابتدائی تعلیم سے بارہویں جماعت تک مختلف سطحوں پر بھرتی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو اماراتی تعلیمی وژن اور مقامی تعلیمی ترجیحات سے اچھی طرح واقف ہوں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں تعلیمی شعبہ تیزی سے جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کر رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اساتذہ مستقبل کی سب سے بڑی ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔







