متحدہ عرب امارات

45 ڈگری سے زائد گرمی میں گاڑی میں بچوں کو تنہا چھوڑنے پر جرمانہ اور قید، اماراتی پولیس کا سخت انتباہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ شارجہ، عجمان اور فجیرہ پولیس نے والدین اور ڈرائیوروں کو خبردار کیا ہے کہ پارک کی گئی گاڑیوں میں بچوں کو تنہا چھوڑنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق موسم گرما میں درجہ حرارت 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے پیش نظر آگاہی مہمات تیز کر دی گئی ہیں تاکہ گرمی سے ہونے والے حادثات اور اموات کو روکا جا سکے۔

شارجہ پولیس کے ٹریفک اینڈ پیٹرولز ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر خالد الکائے نے کہا کہ "بچے کو صرف چند منٹ کے لیے بھی بند گاڑی میں چھوڑنا ایک بڑے سانحے کو دعوت دینے کے مترادف ہے”۔

انہوں نے بتایا کہ جب بیرونی درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو پارک شدہ گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت دس منٹ سے بھی کم وقت میں 60 ڈگری یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کے جسم کا درجہ حرارت بالغ افراد کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے، جس سے سانس رکنے، شدید ہیٹ اسٹروک یا دماغی نقصان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

پولیس نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ گاڑی لاک کرنے سے پہلے ہمیشہ پچھلی نشست کا جائزہ لیں اور گاڑی کی چابیاں ایسی جگہ رکھیں جہاں بچے ان تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

عجمان پولیس کے ٹریفک اینڈ پیٹرولز ڈیپارٹمنٹ کے نائب ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل راشد حمید بن ہندی نے کہا کہ گرمیوں میں بچوں کی حفاظت صرف والدین ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "کسی بھی صورت میں بچے کو گاڑی میں اکیلا نہ چھوڑا جائے، چاہے انجن اور ایئرکنڈیشنر چل رہا ہو یا بند”۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بچے کو گاڑی میں اکیلا پھنسا ہوا دیکھے تو فوری طور پر ہنگامی نمبر 999 پر اطلاع دے تاکہ بروقت امدادی کارروائی کی جا سکے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ بچوں کو گاڑی میں تنہا چھوڑنا صرف لاپروہی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ بچوں کے حقوق سے متعلق وفاقی قانون نمبر 3 برائے 2016 (ودیمہ قانون) کے تحت ایسے والدین یا سرپرستوں کو بھاری جرمانوں اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اماراتی پولیس کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں بچوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں قانون پر مکمل سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button