متحدہ عرب امارات

سی بی ایس ای کا نیا عالمی نصاب متحدہ عرب امارات میں بھارتی تعلیم کا رخ بدل سکتا ہے، طلبہ کو عالمی جامعات کے لیے بہتر مواقع ملنے کی توقع

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں تعلیمی ماہرین اور اسکول سربراہان کا کہنا ہے کہ سی بی ایس ای کا مجوزہ عالمی نصاب بیرونِ ملک بھارتی نصاب پر مبنی تعلیم میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو عالمی معیار کی مہارتوں، تحقیق، اختراع اور عملی علم سے آراستہ کیا جائے گا۔

مجوزہ منصوبے کے تحت بیرونِ ملک موجود سی بی ایس ای سے منسلک اسکولوں کو ایک نئے عالمی نصابی فریم ورک میں منتقل کیا جائے گا تاکہ تعلیم کو زیادہ بین الاقوامی، مسابقتی اور میزبان ممالک کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

اگرچہ اس نصاب کے نفاذ کا ابتدائی ہدف 2026 مقرر کیا گیا تھا، تاہم تعلیمی ماہرین کے مطابق منصوبہ تاحال مشاورتی مرحلے میں ہے اور طلبہ، والدین، اساتذہ، مضمون کے ماہرین اور دیگر متعلقہ اداروں کی آراء کی روشنی میں اسے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

شارجہ انڈین اسکول کے پرنسپل پرمود مہاجن نے کہا کہ نئے نصاب میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے گا جبکہ بین الاقوامی زبانوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق نصاب کا بنیادی مقصد طلبہ کو عالمی شہری بنانا اور انہیں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نصاب صرف بھارتی طلبہ کے لیے نہیں بلکہ مختلف قومیتوں کے طلبہ کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی جامعات میں داخلے کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

دبئی میں دی انڈین اکیڈمی کی پرنسپل پرتھنا کالے کے مطابق مجوزہ نصاب طلبہ کو پائیداری، مصنوعی ذہانت، جدت، کاروباری صلاحیتوں، خلائی تحقیق اور ثقافتی تنوع جیسے موضوعات سے عملی انداز میں جوڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وژن متحدہ عرب امارات کے مستقبل کے اہداف، جن میں اختراع، مسابقت، پائیداری اور عالمی شہریت شامل ہیں، سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔

عجمان کے ووڈلم پارک اسکول کی پرنسپل شائنی ڈیوسن کا کہنا ہے کہ تجرباتی تعلیم، تنقیدی سوچ، صلاحیتوں پر مبنی تعلیم اور بین المضامین سیکھنے کے طریقے پہلے ہی خلیجی ممالک کے کئی اسکولوں میں اپنائے جا رہے ہیں، تاہم نیا عالمی نصاب ان تمام عناصر کو ایک منظم فریم ورک میں یکجا کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نصاب کے نفاذ سے طلبہ کی عالمی جامعات میں داخلے کے امکانات بڑھیں گے اور وہ مستقبل کی ملازمتوں اور بین الاقوامی تعلیمی مواقع کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button