
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے فیصلے کو متعدد والدین نے سراہتے ہوئے اسے بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور آن لائن تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔
20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
والدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کو نامناسب مواد، آن لائن استحصال اور لت جیسے خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
دبئی کے ایک 15 سالہ طالب علم نے بتایا کہ جب وہ 12 برس کا تھا تو اسے ایک نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پیغام موصول ہوا۔ بھیجنے والے نے خود کو 19 سالہ طالبہ ظاہر کیا اور نامناسب تصاویر بھی ارسال کیں۔ طالب علم کے مطابق اس واقعے نے اسے کئی دنوں تک خوف اور الجھن میں مبتلا رکھا۔
طالب علم نے کہا کہ اگرچہ وہ اس تجربے کو دہرانا نہیں چاہے گا، تاہم اس کے خیال میں سوشل میڈیا نوجوانوں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے، اس لیے پابندی کے حوالے سے اس کے جذبات ملے جلے ہیں۔
دوسری جانب دبئی میں مقیم ایک والدہ جینیٹ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو 13 سال کی عمر میں موبائل فون ملنے کے بعد سوشل میڈیا کی شدید عادت پڑ گئی تھی۔ ان کے مطابق بیٹی کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوئی، غیر نصابی سرگرمیاں ترک ہو گئیں اور وہ رات گئے تک سوشل میڈیا استعمال کرتی رہتی تھی۔
جینیٹ نے کہا کہ صورت حال اس حد تک پہنچ گئی کہ ان کی بیٹی کلاس میں سونے لگی، جس پر اسکول انتظامیہ نے انہیں آگاہ کیا۔ بعد ازاں فون واپس لینے پر گھریلو تنازعات بھی پیدا ہوئے، تاہم اب حالات بہتر ہیں۔
انہوں نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے خطرات سے بھرا ماحول بن سکتا ہے اور کم عمر بچوں کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایک اور والدہ عائشہ نے کہا کہ اپنی 15 سالہ بیٹی کو سوشل میڈیا کے آداب اور آن لائن رازداری کے بارے میں سمجھانا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بعض ایپلی کیشنز پر بھیجا گیا مواد مکمل طور پر نجی رہتا ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
عائشہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر، ویڈیوز یا پیغامات آسانی سے دوسروں تک پہنچ سکتے ہیں، اس لیے نوجوانوں کو ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
والدین کا ماننا ہے کہ نئی پابندی نہ صرف بچوں کو آن لائن شکاریوں، نامناسب مواد اور سوشل میڈیا کی لت سے محفوظ بنانے میں مدد دے گی بلکہ نوجوانوں میں محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل رویوں کے فروغ کا باعث بھی بنے گی۔
یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے اور آن لائن خطرات کے سدباب کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔







