متحدہ عرب امارات

ایرانی حملوں کے دوران بھی دبئی ورلڈ کپ جاری رہا، اماراتی حکام نے مؤثر بحران انتظامی حکمت عملی کو کامیابی قرار دے دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل عبدالناصر الحمیدی نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور ایرانی حملوں کے باوجود ملک میں معمولاتِ زندگی اور عالمی تقریبات کا بلا تعطل جاری رہنا اماراتی دفاعی اور سکیورٹی اداروں پر قیادت کے مکمل اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے اماراتی میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے آخر میں کشیدگی میں اضافے کے باوجود دبئی ورلڈ کپ اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوا اور نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی اس میں شرکت کی۔

عبدالناصر الحمیدی نے کہا، "ہم صرف ایک محفوظ اور مستحکم معاشرے میں زندگی نہیں گزار رہے بلکہ بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی، ہوائی اڈوں کا انتظام اور دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کا استقبال بھی معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں۔”

انہوں نے بحران کے دوران میڈیا کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی ادارہ میڈیا سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ مؤثر ابلاغ کو قومی سلامتی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق بحران کے آغاز کے چند گھنٹوں کے اندر ہی میڈیا سیلز قائم کر دیے گئے تھے اور ابتدائی سرکاری بیان بھی فوری طور پر جاری کیا گیا۔

میجر جنرل الحمیدی نے کہا کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ غلط معلومات، افواہوں اور معلوماتی مہمات کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اماراتی میڈیا نے زمینی حقائق کی بروقت ترسیل اور بحران سے نمٹنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے گمراہ کن بیانیوں کا مؤثر مقابلہ کیا۔

انہوں نے میڈیا اور عوام دونوں کی نظم و ضبط کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حساس مقامات اور فوجی نقل و حرکت کی ویڈیوز نہ بنانے سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد نے بھی بحران کے کامیاب انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ "جو بیانیے پر کنٹرول حاصل کرتا ہے، وہ معلومات اور حقیقت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ اماراتی میڈیا نے 101 ممالک تک متحدہ عرب امارات کا مؤقف پہنچایا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ملک اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

عبدالناصر الحمیدی نے مستقبل کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اماراتی مسلح افواج صرف موجودہ چیلنجز پر نہیں بلکہ آئندہ 20 سے 30 برس کے ممکنہ خطرات پر بھی کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس، سائبر حملے اور برقی مقناطیسی نظاموں کو نشانہ بنانے والی ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مختصر خلاصہ: اماراتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران بھی ملک میں معمولاتِ زندگی، عالمی تقریبات اور فضائی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں، جسے مؤثر بحران انتظام اور قومی تیاری کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button