متحدہ عرب امارات

دبئی میں گرمی کے موسم میں 50 ہزار سے زائد شعلہ نما درخت کھل اٹھے، شہر رنگوں اور ٹھنڈی چھاؤں سے مہکنے لگا

خلیج اردو
دبئی میں شدید گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی شعلہ نما درختوں کے نارنجی اور سرخ پھول پورے شہر کو رنگین بنا رہے ہیں۔ اب تک شہر بھر میں 50 ہزار سے زائد شعلہ نما درخت لگائے جا چکے ہیں جو نہ صرف خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ شہری ماحول کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے شہر کی سڑکوں، رہائشی علاقوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر ان درختوں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے ساتھ شہریوں میں مفت پودے تقسیم کرنے کا بھی آغاز کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مہم کا حصہ بن سکیں۔

یہ درخت تقریباً 60 سال تک زندہ رہ سکتا ہے، 12 میٹر تک بلند ہوتا ہے اور اپنی گھنی چھتری نما شاخوں کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیا گیا "فلیم ٹری سیزن” ہر سال یکم مئی سے 31 جولائی تک جاری رہتا ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف شجرکاری نہیں بلکہ دبئی میں ایک مستقل ثقافتی روایت کو فروغ دینا بھی ہے۔

اس منصوبے کی سربراہ رافعہ بن سلیمان کے مطابق شعلہ نما درخت دبئی کی شناخت، مضبوطی، موافقت اور مشکل موسمی حالات میں ترقی کرنے کی صلاحیت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درخت شدید گرمی میں بھی پھلتا پھولتا ہے، سایہ فراہم کرتا ہے اور شہری زندگی کو زیادہ آرام دہ بناتا ہے۔

مہم کے تحت شہریوں کو پودے فراہم کیے جا رہے ہیں اور لوگوں کی جانب سے اس اقدام کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ بہت سے رہائشی پودے حاصل کر رہے ہیں، تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں اور اپنے گھروں میں ان درختوں کی کاشت کے تجربات بھی شیئر کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان درختوں کو کھلی اور دھوپ والی جگہوں پر لگانا بہتر ہے جبکہ انہیں عمارتوں اور دیواروں سے کم از کم پانچ سے چھ میٹر کے فاصلے پر ہونا چاہیے۔ ابتدائی مرحلے میں باقاعدہ آبپاشی ضروری ہوتی ہے، تاہم بالغ درخت کم پانی میں بھی بہتر نشوونما پا لیتے ہیں۔

دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کا مقصد اس مہم کو مستقبل میں ایک ایسی سالانہ روایت بنانا ہے جس کا شہری ہر سال انتظار کریں اور آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورت روایت کو آگے بڑھا سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button