متحدہ عرب امارات

ابوظہبی میں آف پلان جائیدادوں کی مانگ میں تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد غیر یقینی حالات کے باوجود برقرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی آف پلان جائیدادوں کی مارکیٹ نے عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود غیر معمولی مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ سرمایہ کار طویل المدتی رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں مسلسل دلچسپی لے رہے ہیں۔

کم ابتدائی قیمتوں، آسان اقساط اور مستقبل میں زیادہ منافع کی توقعات کے باعث خریدار آف پلان منصوبوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہی رجحان نہ صرف دبئی کی عالمی رئیل اسٹیٹ مرکز کے طور پر حیثیت کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ ابوظہبی کو بھی خطے کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سرمایہ کاری منزلوں میں شامل کر رہا ہے۔

جائیداد کے مشاورتی ادارے Equity کے مطابق متحدہ عرب امارات کی طویل المدتی معاشی ترقی پر سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار ہے اور آف پلان منصوبے مقامی اور بین الاقوامی خریداروں کو مسلسل اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال Equity کے پورٹ فولیو میں ہونے والی تقریباً 70 فیصد آف پلان خرید و فروخت ابوظہبی میں ہوئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں کی توجہ تیزی سے دارالحکومت کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابوظہبی میں بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے، قوانین میں اصلاحات اور جدید رہائشی کمیونٹیز کی ترقی اس تبدیلی کی اہم وجوہات ہیں۔ خاص طور پر Yas Island، Saadiyat Island اور Al Reem Island جیسے علاقوں میں نئے رہائشی منصوبے سرمایہ کاروں اور رہائشی خریداروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

ایکوئٹی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر Emrah Yar نے کہا کہ "متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد انتہائی مضبوط ہے۔ ابوظہبی میں بڑھتی ہوئی طلب واضح کرتی ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کی ترقی اور زیادہ منافع والے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔”

دبئی نے 2025 کے دوران 760 ارب درہم سے زائد مالیت کے رئیل اسٹیٹ لین دین ریکارڈ کیے، جبکہ ابوظہبی کی مارکیٹ میں بھی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث نمایاں ترقی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق ڈویلپرز کی جانب سے طویل المدتی ادائیگی کے منصوبے، ہینڈ اوور کے بعد اقساط کی سہولت اور کم ابتدائی ادائیگیوں نے نئے سرمایہ کاروں اور بیرون ملک خریداروں کیلئے جائیداد کی خریداری آسان بنا دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی آبادی، مضبوط معیشت، گولڈن ویزا پروگرام، سرمایہ کاری دوست پالیسیاں اور معاشی تنوع بھی رہائشی جائیدادوں کی طویل المدتی طلب کو تقویت دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ابوظہبی میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا مطلب دبئی کی مارکیٹ کی کمزوری نہیں بلکہ یہ پورے ملک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے پھیلاؤ اور تنوع کی علامت ہے، جہاں سرمایہ کار اب مختلف امارات میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button