
خلیج اردو
بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان کے بعد کہ بھارتی پاسپورٹ صرف سفری دستاویز ہے، شہریت کا قانونی ثبوت نہیں، سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ عام تاثر یہ تھا کہ پاسپورٹ کے اجرا سے قبل شناخت، رہائش، تعلیمی ریکارڈ اور خاندانی معلومات کی مکمل جانچ کی جاتی ہے، اس لیے یہ شہریت کا بھی ثبوت ہونا چاہیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی پاسپورٹ پاسپورٹس ایکٹ 1967 کے تحت وزارت خارجہ جاری کرتی ہے، جبکہ شہریت سے متعلق تمام معاملات شہریت ایکٹ 1955 کے تحت وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ بعض حالات میں حکومت غیر شہری افراد کو بھی سفری دستاویز یا پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے، اسی لیے پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔
اسی تناظر میں سوال اٹھا کہ آخر کون سی سرکاری دستاویز بھارتی شہریت ثابت کرتی ہے۔
آدھار کارڈ صرف شناخت اور سرکاری خدمات کے حصول کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بھارت میں مقیم غیر شہری افراد کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ شہریت کا ثبوت نہیں۔
اسی طرح پین کارڈ انکم ٹیکس سے متعلق شناختی نمبر ہے، جو ٹیکس دہندگان یا ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کو جاری کیا جاتا ہے، لہٰذا اسے بھی شہریت کی قانونی دستاویز نہیں مانا جاتا۔
ووٹر شناختی کارڈ صرف بھارتی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے، تاہم یہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہوتا ہے، وزارت داخلہ کی طرف سے نہیں، اس لیے اسے بھی شہریت کا حتمی قانونی ثبوت قرار نہیں دیا جاتا۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کی جائے پیدائش ثابت کرتا ہے، لیکن صرف بھارت میں پیدا ہونا ہر صورت میں شہریت کی ضمانت نہیں۔ بعض صورتوں میں والدین کی شہریت ثابت ہونے پر یہ دستاویز شہریت کے دعوے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت میں شہریت کا نظام شہریت ایکٹ 1955 کے تحت چلتا ہے، جس کے مطابق شہریت چار بنیادی طریقوں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
ان میں پیدائش کے ذریعے شہریت، نسب کے ذریعے شہریت، رجسٹریشن کے ذریعے شہریت اور نیچرلائزیشن (قانونی تقاضے پورے کرکے شہریت حاصل کرنا) شامل ہیں۔
سال 2019 میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو نے کہا تھا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش سے متعلق دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے قابل قبول دستاویزات کی حتمی فہرست ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔
اس وقت بھارت میں ایسی کوئی واحد سرکاری دستاویز موجود نہیں جسے ہر قانونی صورت میں بھارتی شہریت کا حتمی اور مکمل ثبوت قرار دیا گیا ہو، بلکہ شہریت کے تعین کے لیے متعلقہ قوانین اور دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر ہر کیس کا الگ جائزہ لیا جاتا ہے۔







