متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے ویزا آن ارائیول پالیسی میں بڑی توسیع کر دی، مزید 6 ممالک کے شہری اب 60 دن تک قیام کے اہل قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی نے ویزا آن ارائیول کے قواعد میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے مزید 6 ممالک کے شہریوں کو اس سہولت میں شامل کر لیا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت اہل افراد 14 روزہ یا 60 روزہ ویزا حاصل کر کے امارات میں داخل ہو سکیں گے۔

نئے ضوابط کے مطابق انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری اب اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف بھارتی شہریوں کے لیے دستیاب تھی۔

حکام نے ان ممالک کی فہرست بھی وسیع کر دی ہے جن کا معتبر رہائشی اجازت نامہ رکھنے والے افراد اس ویزا کے اہل ہوں گے۔ نئی شامل ہونے والی ریاستوں میں سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں، جبکہ اس سے پہلے امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس فہرست میں شامل تھے۔

نئے قواعد کے مطابق درخواست دہندہ اور اس کے ہمراہ آنے والے اہل خانہ کو دو بنیادی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پہلی یہ کہ وہ بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا یا جنوبی افریقہ کے شہری ہوں، اور دوسری یہ کہ ان کے پاس امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا کینیڈا کا کارآمد رہائشی اجازت نامہ موجود ہو۔

درخواست دہندہ اپنی ضرورت کے مطابق 14 روزہ یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکتا ہے۔ 14 روزہ ویزا دوران قیام صرف ایک مرتبہ توسیع کے قابل ہوگا، جبکہ 60 روزہ ویزا سنگل انٹری ہوگا اور اس میں توسیع کی اجازت نہیں ہوگی۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل ملک چھوڑنا لازمی ہوگا، بصورت دیگر روزانہ 50 درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

14 روزہ ویزا کی فیس 100 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 250 درہم مقرر کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق ویزا پالیسی میں یہ توسیع دوست ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، معاشی، ثقافتی اور انسانی روابط کو فروغ دینے اور دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کے لیے امارات کو مزید پرکشش منزل بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

وفاقی اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں عالمی سفری رجحانات اور بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل مسافروں کو آسان اور لچکدار سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button