
خلیج اردو
فلپائن میں مذہبی اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیمیں 28 جون، اتوار کو بدعنوانی کے خلاف بڑے احتجاج کا انعقاد کریں گی۔ وائٹ ربن موومنٹ مارچ کے نام سے ہونے والی اس ریلی میں حکومت سے سیلابی منصوبوں، بجٹ میں مبینہ غیر قانونی ترامیم، کمیشن خوری اور دیگر مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
فلپائن کی کیتھولک بشپ کانفرنس کے مطابق یہ ریلی دارالحکومت میں واقع تاریخی پیپلز پاور مونومنٹ پر منعقد ہوگی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ بہتر طرز حکمرانی اور روشن مستقبل کے مستحق ہیں۔
انٹر ریلیجس لیڈرز کونسل فار نیشنل ٹرانسفارمیشن کے سربراہ اور بشپ کولن باگافورو نے کہا، "بہتر مستقبل صرف ایسی سیاست سے ممکن ہے جو عوامی مفاد، انسانی وقار اور انصاف پر مبنی ہو، نہ کہ لالچ اور ذاتی مفادات پر۔”
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نائب صدر سارا دوتیرتے کے مواخذے کے مقدمے کی سماعت 6 جولائی سے شروع ہونے والی ہے اور اس سے قبل فریقین کے درمیان ابتدائی قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ ریلی صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کے سالانہ خطاب سے بھی قبل منعقد ہوگی۔ صدر مارکوس پر بھی اربوں پیسو کے بجٹ میں مبینہ غیر قانونی شمولیت اور کک بیکس سے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، تاہم ان الزامات پر عدالت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
بدعنوانی کے خلاف سرگرم تنظیموں بیان اور پیپلز اینٹی کرپشن موومنٹ نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف نائب صدر کے مواخذے تک احتساب محدود نہ رکھا جائے بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ کے ان تمام اعلیٰ عہدیداروں کو بھی جوابدہ بنایا جائے جن پر بدعنوانی کی منصوبہ بندی، معاونت یا اس سے فائدہ اٹھانے کے الزامات ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ درجہ بندی کے مطابق فلپائن بدعنوانی کے ادراک کے اشاریے میں 182 ممالک میں 120ویں نمبر پر ہے۔ ملک کو 100 میں سے 32 نمبر ملے، جو عالمی اوسط 42 سے خاصے کم ہیں۔
معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ فلپائن کے قومی بجٹ کا تقریباً 20 فیصد، یعنی سالانہ 1.6 کھرب پیسو بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں مجموعی طور پر 12 کھرب پیسو سے زائد قومی معیشت سے ضائع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آزاد تحقیقی ادارے آئی بون فاؤنڈیشن کے مطابق موجودہ بجٹ میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے مختلف ترقیاتی اور سماجی منصوبوں کی مد میں اربوں پیسو مختص کیے گئے ہیں، جنہیں ناقدین سیاسی سرپرستی اور مالی بے ضابطگیوں کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر بدعنوانی پر مؤثر قابو پا لیا جائے تو فلپائن کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح موجودہ 4 سے 5 فیصد کے بجائے 8 سے 10 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔







