
خلیج اردو
بھارت نے پاسپورٹ فیس، بین الاقوامی سفر، امیگریشن قوانین اور دیگر اہم دستاویزات سے متعلق متعدد نئی تبدیلیوں اور وضاحتوں کا اعلان کیا ہے، جن کا اطلاق خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی شہریوں اور بھارت جانے والے مسافروں پر ہوگا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ "پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے، اسے بھارتی شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔” حکام کے مطابق گزشتہ سال متعارف کرائے گئے الیکٹرانک پاسپورٹس میں اب تک تقریباً ایک کروڑ سینتالیس لاکھ پاسپورٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں ریڈیو فریکوئنسی شناختی چپ اور بایومیٹرک معلومات شامل ہیں۔
حکومت نے چودہ برس بعد پاسپورٹ فیس میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ چھتیس صفحات والے عام پاسپورٹ کی فیس پندرہ سو روپے سے بڑھا کر ڈھائی ہزار روپے جبکہ فوری سروس کی فیس ساڑھے تین ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ساٹھ صفحات والے پاسپورٹ، گمشدہ یا خراب پاسپورٹ کے دوبارہ اجرا اور کم عمر بچوں کے پاسپورٹ کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مسافروں کے لیے بھارت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر سووِدھا 2.0 پورٹل بھی متعارف کرا دیا ہے، جہاں بھارت پہنچنے سے چوبیس گھنٹے پہلے صحت سے متعلق لازمی خود اعلانیہ فارم جمع کرانا ہوگا۔ اس فارم میں گزشتہ اکیس روز کے سفری ریکارڈ، بیماری سے ممکنہ رابطے اور علامات کی معلومات درج کرنا ضروری ہوں گی۔ یہ اقدام ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
بھارت نے امیگریشن قوانین میں بھی ترمیم کی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق غیر ملکی شہری اگر بھارت میں ایک سو اسی دن سے زیادہ قیام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک سو اسی دن مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی وقت رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ اس سے قبل رجسٹریشن کی شرط ایک سو اسی دن مکمل ہونے کے بعد چودہ دن کے اندر تھی۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر والدین میں سے ایک بھارتی شہری ہو اور بچے کی بھارتی شہریت برقرار رکھنا چاہتا ہو تو مخصوص حالات میں رجسٹریشن کی شرط لاگو نہیں ہوگی۔ تاہم اگر بھارت میں مقیم کسی بچے نے غیر ملکی شہریت حاصل کی تو والدین میں سے کسی ایک کو تیس دن کے اندر رجسٹریشن افسر کو اس کی اطلاع دینا لازم ہوگا۔







