
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع قدیم ساحلی گاؤں قدفا اپنی پانچ ہزار سالہ انسانی تاریخ، زرعی روایات اور آثارِ قدیمہ کی بدولت منفرد شناخت رکھتا ہے۔ حجر پہاڑوں اور خلیجِ عمان کے درمیان واقع یہ گاؤں صدیوں سے انسانی تہذیب، تجارت اور زراعت کا مرکز رہا ہے۔
اماراتی مؤرخ، مصنفہ اور محققہ ڈاکٹر آمنہ احمد صابر کے مطابق قدفا کی جغرافیائی حیثیت ہی اس کی اصل طاقت تھی۔ انہوں نے کہا، "ہمارے آباؤ اجداد کو بقا اور خوشحالی کے لیے درکار ہر چیز یہی زمین فراہم کرتی تھی۔”
ڈاکٹر آمنہ کے مطابق قدفا میں آثارِ قدیمہ کے چار بڑے مقامات موجود ہیں، جہاں کانسی اور لوہے کے ادوار کے اجتماعی مقبرے، قبل از اسلام آبادیوں کے آثار اور اسلامی دور تک مسلسل انسانی موجودگی کے شواہد ملتے ہیں۔ ان کے بقول یہ بستیاں تقریباً 3500 قبل مسیح سے انسانی رہائش کی گواہی دیتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قدفا میں ایک قدیم فصیل بند شہر بھی موجود تھا، جس میں ایک قلعہ، نگرانی کے برج، چار بڑے حفاظتی دروازے اور فجیرہ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک مسجد شامل تھی، جو مشہور البدیہ مسجد سے بھی پہلے تعمیر کی گئی تھی۔
گاؤں کے نام "قدفا” کے بارے میں مقامی روایات بھی دلچسپ ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ علاقہ کپاس کی کاشت کے لیے مشہور تھا۔ ایک تاجر نے ہندوستان میں کپاس کے بارے میں پوچھے جانے پر عربی میں "قد فا” کہا، یعنی "کپاس کے پھول کھل چکے ہیں”، اور یہی جملہ بعد میں گاؤں کا نام بن گیا۔ دوسری روایت کے مطابق یہ نام زیرزمین پانی کے طاقتور چشموں سے نکلا، جو زمین سے زور سے ابلتے تھے۔
ماضی میں قدفا کے لوگ موسموں کے مطابق اپنی رہائش تبدیل کرتے تھے۔ گرمیوں میں کھجوروں کے باغات میں عریش کے گھروں میں رہتے جبکہ سردیوں میں ساحلی علاقوں کا رخ کرتے۔ مرد کھیتی باڑی اور ماہی گیری کرتے تھے جبکہ خواتین گھر، مویشیوں اور ایندھن کی فراہمی سمیت روزمرہ زندگی کی تمام اہم ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔
قدفا صرف ماہی گیری تک محدود نہیں تھا بلکہ یہاں گندم، جو، ترش پھل اور کھجوروں سے شیرہ بھی تیار کیا جاتا تھا۔ یہی زرعی پیداوار اسے قدیم تجارتی شاہراہوں کا اہم مرکز بناتی تھی۔ عمان کے پہاڑی علاقوں اور دبئی و شارجہ جانے والے قافلے یہاں قیام کرتے اور تجارت کرتے تھے۔
ڈاکٹر آمنہ نے بتایا کہ 1971ء میں متحدہ عرب امارات کے قیام کی خبر نے گاؤں میں نئی امید پیدا کی۔ انہوں نے بچپن کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو بتایا گیا، "اب کوئی تنازع نہیں، فوج ایک ہے، ملک ایک ہے اور شیخ زاید ہمارے حکمران ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ 1974ء میں شیخ زاید بن سلطان النہیان نے قدفا میں پہلے پانی صاف کرنے کے پلانٹ اور بجلی گھر کا افتتاح کیا، جس کے بعد علاقے میں صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کا آغاز ہوا۔ 1972ء میں گاؤں میں پہلا ٹیلی وژن آیا تو پورا محلہ ایک ہی صحن میں جمع ہو کر نشریات دیکھا کرتا تھا۔
آج اگرچہ مٹی اور پتھر کے گھروں کی جگہ جدید رہائش گاہوں نے لے لی ہے، لیکن قدفا کے لوگ اب بھی اپنی زمینوں اور کھجوروں کے باغات سے جڑے ہوئے ہیں۔ زیرزمین پانی کھارا ہونے کے باوجود مقامی خاندانوں نے گھروں سے پائپ بچھا کر صاف پانی اپنے باغات تک پہنچایا تاکہ ان کی زرعی وراثت محفوظ رہ سکے۔
قدفا صرف ایک قدیم گاؤں نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی تہذیبی، تاریخی اور زرعی شناخت کا ایسا زندہ باب ہے، جو پانچ ہزار برس بعد بھی اپنی روایت، ثقافت اور زمین سے وابستگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔







