
خلیج اردو
سال 2026 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک نے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ بعض ممالک نے داخلے کے ضوابط سخت کیے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سمیت کچھ ممالک نے سیاحت، سرمایہ کاری اور سفر کو فروغ دینے کے لیے نئی سہولتیں فراہم کی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے آن ارائیول ویزا کی سہولت مزید ممالک تک بڑھا دی ہے، جبکہ دبئی میں جائیداد خریدنے والے سرمایہ کاروں کے لیے رہائشی ویزا کے قواعد بھی آسان بنائے گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اضافی 750 ڈالر فیس کے عوض تیز رفتار وزٹ اور کاروباری ویزا سروس متعارف کرائی ہے، جبکہ امیگریشن جانچ مزید سخت کر دی گئی ہے۔
جاپان نے تقریباً پانچ دہائیوں بعد ویزا فیس میں نمایاں اضافہ کیا ہے، آسٹریلیا نے ہنر مند کارکنوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط بڑھا دی ہے، اور برطانیہ نے طلبہ، سیاحوں اور ہنر مند کارکنوں کے ویزا قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔
بھارت نے غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار میں نرمی کرتے ہوئے ڈیجیٹل اپیل کا نظام متعارف کرایا ہے، جبکہ ویتنام نے یکم جولائی سے تمام بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفر سے قبل صحت کا اعلامیہ جمع کرانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
ادھر چین نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور 40 سے زائد ممالک کے شہریوں کے لیے 30 روزہ ویزا فری داخلے کی سہولت 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دی ہے، جبکہ شینگن ممالک نے بائیومیٹرک بنیادوں پر ڈیجیٹل انٹری اور ایگزٹ نظام مکمل طور پر نافذ کر دیا ہے۔







