
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بھارتی پاسپورٹ، ویزا اور دیگر قونصلر خدمات کی نئی انتظامیہ کو منتقلی عدالتی تنازع کے باعث تاخیر کا شکار ہو گئی ہے، جس سے ہزاروں بھارتی تارکینِ وطن غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
بھارتی سفارت خانے نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے والی کمپنی بی ایل ایس کی جگہ نومبر 2025 میں ہونے والے مسابقتی عمل کے بعد الہند ٹورز اینڈ ٹریولز کو نیا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ تاہم یکم جولائی سے خدمات کی منتقلی انتظامی وجوہات کی بنا پر مؤخر کر دی گئی، جس کے بعد دو جولائی سے ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانہ اور دبئی میں بھارتی قونصل خانہ محدود پیمانے پر پاسپورٹ، ویزا اور تصدیقی خدمات خود فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹینڈر میں ناکام رہنے والی دو کمپنیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں بغیر مناسب وجہ بتائے تکنیکی جانچ کے مرحلے میں نااہل قرار دیا گیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان کی پیشکش ٹینڈر کی شرائط پر پوری اترتی تھی، لیکن انہیں غیر منصفانہ انداز میں کم نمبر دیے گئے اور اس کی کوئی واضح وجہ بھی فراہم نہیں کی گئی۔
یہ معاملہ پہلے دہلی ہائی کورٹ اور پھر بھارتی سپریم کورٹ تک پہنچا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو کیس کی جلد سماعت کی ہدایت دی۔ بعد ازاں متعلقہ جج نے خود کو کیس سے الگ کر لیا، جس کے بعد خصوصی بینچ تشکیل دی جا رہی ہے۔
عدالت کے فیصلے تک متحدہ عرب امارات میں بھارتی قونصلر خدمات محدود پیمانے پر جاری رہیں گی۔ پاسپورٹ کی تجدید، ویزا درخواستوں اور تعلیمی یا دیگر دستاویزات کی تصدیق کے منتظر ہزاروں بھارتی شہریوں کو تاحال مکمل سروس کی بحالی کا انتظار ہے۔







