
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران پاسپورٹ کی تجدید اور دیگر قونصلر خدمات کی طلب میں اضافے کے باعث بھارتی سفارتی مشن نے یکم جولائی سے محدود قونصلر خدمات براہِ راست فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ عارضی انتظام سابق سروس فراہم کنندگان کے معاہدے کے خاتمے، نئے آپریٹر کی منتقلی میں تاخیر اور عدالتی کارروائی کے باعث کیا گیا ہے۔
اس وقت ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانے اور دبئی میں بھارتی قونصل خانے میں پاسپورٹ، ویزا، دستاویزات کی تصدیق اور دیگر قونصلر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ خدمات پیر سے ہفتہ صبح 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک دستیاب ہوں گی، جبکہ پیشگی اپائنٹمنٹ کی سہولت موجود نہیں۔ تمام درخواست گزاروں کو واک اِن بنیاد پر پہلے آئیں، پہلے پائیں کے اصول کے تحت خدمات دی جائیں گی۔
حکام کے مطابق رش سے بچنے کے لیے صرف درخواست گزار کو عمارت میں داخلے کی اجازت ہوگی، البتہ کم عمر بچوں کے ساتھ والدین جا سکتے ہیں۔ تمام ادائیگیاں صرف نقد رقم میں قبول کی جائیں گی، اس لیے درخواست گزاروں کو مکمل رقم ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ بقایا رقم واپس کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
یکم جولائی سے بھارتی پاسپورٹ فیس میں بھی پہلی مرتبہ 2012 کے بعد اضافہ کیا گیا ہے۔ 36 صفحات والے عام پاسپورٹ کی نئی یا تجدید درخواست کی فیس 450 درہم جبکہ فوری سروس (تتکال) کے لیے 900 درہم مقرر کی گئی ہے۔ 60 صفحات والے پاسپورٹ کی عام تجدید 630 درہم اور تتکال سروس کی فیس 1,080 درہم ہوگی۔
دبئی میں بھارتی قونصل خانے کے باہر بڑی تعداد میں درخواست گزاروں کی آمد کے پیش نظر ٹوکن سسٹم، انتظار کے لیے خیمے، مفت چائے اور ہلکی پھلکی تواضع کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ شیر خوار بچوں کی ماؤں کے لیے علیحدہ جگہ بھی مختص کی گئی ہے۔
بھارتی قونصل خانہ 4 اور 5 جولائی کو شارجہ کی انڈین ایسوسی ایشن اور 5 جولائی کو فجیرہ کے انڈین سوشل کلب میں بھی دستاویزات کی تصدیق کی خصوصی خدمات فراہم کرے گا۔
نئے قونصلر مراکز کے انتظام کا ٹھیکہ الہند ٹورز اینڈ ٹریولز کو دیا جا چکا ہے، تاہم عدالتی کارروائی کے باعث کمپنی ابھی باقاعدہ طور پر خدمات سنبھال نہیں سکی۔ کمپنی نے متحدہ عرب امارات کی ساتوں ریاستوں میں 16 انڈین قونصلر ایپلیکیشن سینٹرز قائم کرنے کی تیاری مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
یہ عارضی انتظام عدالتی فیصلہ آنے تک جاری رہے گا، جبکہ بھارتی حکام نے شہریوں کو تازہ معلومات کے لیے سفارت خانے اور قونصل خانے کی سرکاری ہدایات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔







