
خلیج اردو
فیفا ورلڈ کپ کے دوران مصر کی قومی فٹبال ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی شہر ڈلاس میں ایک پولیس اہلکار نے ٹیم ڈائریکٹر ابراہیم حسن اور کھلاڑی محمود حسن "تریزیگیہ” کو اس وقت دھکا دیا جب وہ ایک مداح کے ساتھ تصویر بنوا رہے تھے۔
مصری ٹیم کے میڈیا آفیسر محمد مراد نے بتایا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ ابراہیم حسن اور تریزیگیہ کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا تھا، جس کی اجازت ٹیم ڈائریکٹر نے دے دی تھی۔ ان کے مطابق اسی دوران ایک سیکیورٹی اہلکار نے مداخلت کرتے ہوئے مداح، تریزیگیہ اور ابراہیم حسن کو دھکا دیا، حالانکہ دونوں ٹیم آفیشلز اپنے مختص مقام پر موجود تھے۔
محمد مراد کے مطابق ابراہیم حسن نے اہلکار سے کہا کہ وہ مداح کے ساتھ مناسب انداز میں پیش آئے۔
دوسری جانب ڈلاس پولیس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے کی ویڈیو سے آگاہ ہے۔ پولیس کے مطابق ہوٹل انتظامیہ کی درخواست پر ایک ایسے شخص کے بارے میں کارروائی کی گئی جو مطلوبہ ایونٹ اجازت نامہ ظاہر کیے بغیر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
ڈلاس پولیس کا کہنا ہے کہ بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ افراد نے بھی اپنے اجازت نامے مناسب انداز میں ظاہر نہیں کیے تھے، جو مقررہ ضابطے کے مطابق ضروری تھا۔ پولیس کے مطابق موقع پر ہی صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا اور بعد ازاں مصری ٹیم کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات دور کیے گئے، جس کے بعد معاملہ حل ہو گیا۔
یہ واقعہ مصر کے آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے میچ سے قبل پیش آیا، تاہم حکام کے مطابق اس سے ٹیم کی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔







