متحدہ عرب امارات

سپر طوفان باوی 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تائیوان کی جانب بڑھنے لگا، فلپائن کو براہِ راست خطرہ ٹل گیا

خلیج اردو
بحرالکاہل میں بننے والا طاقتور سپر طوفان باوی فلپائن سے دور شمال کی جانب مڑتے ہوئے تائیوان کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث فلپائن میں براہِ راست لینڈ فال کا امکان انتہائی کم قرار دیا گیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق طوفان منگل کو فلپائن کے موسمی نگرانی کے علاقے میں داخل ہوگا، تاہم اس کا رخ بعد ازاں تائیوان کی جانب ہو جائے گا۔

سپر طوفان باوی کی جھکڑوں سمیت رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث شمالی ماریانا جزائر اور ماریانا میں بڑے پیمانے پر پیشگی انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ گوام کی حکومت نے بھی ہنگامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سپر طوفان شمال مغربی بحرالکاہل میں آنے والے طاقتور ترین سمندری طوفانوں کی قسم ہے، جس میں مسلسل ہواؤں کی رفتار کم از کم 185 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، اور اسے انتہائی خطرناک موسمی نظام تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے یاد دلایا کہ 2013 میں آنے والا سپر طوفان ہائیان، جسے فلپائن میں یولانڈا کہا جاتا ہے، تاریخ کے تباہ کن ترین طوفانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی رفتار 315 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 6 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور اربوں مالیت کا نقصان ہوا تھا۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق شمال مغربی بحرالکاہل میں ہر سال اوسطاً چار سے پانچ سپر طوفان بنتے ہیں۔ رواں سال متوقع سپر ایل نینو کے باعث اگرچہ طوفانوں کی مجموعی تعداد کم رہ سکتی ہے، تاہم جو طوفان بنیں گے ان کے زیادہ طاقتور اور تباہ کن ہونے کا خدشہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سپر طوفان باوی کا رخ تائیوان اور جاپان کی جانب ہونے سے ان ممالک میں شدید بارشوں، تیز ہواؤں اور ممکنہ نقصانات کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ فلپائن کو اس بار براہِ راست بڑے خطرے سے وقتی طور پر نجات ملتی دکھائی دے رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button