
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے عوام کو جعلی، ملاوٹ شدہ اور خراب اشیا کی خریداری سے محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی مصنوعات کی تیاری، درآمد، فروخت یا تشہیر میں ملوث افراد کو دس لاکھ درہم تک جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق جعلی اور غیر معیاری مصنوعات نہ صرف صارفین کو مالی نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ خوراک، ادویات، کاسمیٹکس اور دیگر حساس اشیا کی صورت میں صحت اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
وفاقی حکم نامہ نمبر 42 برائے 2023 کے تحت جعلی، ملاوٹ شدہ یا خراب اشیا کی درآمد، تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل، فروخت، تجارت، تشہیر یا ان کی ملکیت رکھنا جرم ہے، جبکہ ان سرگرمیوں کی کوشش بھی قانون کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔
قانون کے مطابق کسی بھی مصنوعات کی نوعیت، مقدار، معیار، اصل ملک یا میعاد کے بارے میں صارفین کو گمراہ کرنا، جھوٹے یا فریب پر مبنی اشتہارات دینا یا جعلی اشیا کو اصل ظاہر کر کے فروخت کرنا بھی تجارتی دھوکا دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
قانون کی دفعہ 17 کے مطابق جان بوجھ کر تجارتی دھوکا دہی میں ملوث افراد کو پانچ ہزار سے دس لاکھ درہم تک جرمانہ، دو سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
حکام نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ دکانوں اور مستند آن لائن پلیٹ فارمز سے خریداری کریں، مصنوعات کی پیکنگ، اصل ملک، تفصیلات اور میعادِ استعمال ضرور چیک کریں، خریداری کی رسید اور وارنٹی محفوظ رکھیں، جبکہ غیر لائسنس یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا آن لائن فروخت کنندگان سے خریداری سے گریز کریں۔
اگر کسی مشکوک مصنوعات یا گمراہ کن اشتہار کا سامنا ہو تو متعلقہ حکام کو فوری اطلاع دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے تاکہ تجارتی دھوکا دہی کی روک تھام اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔






