متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے دنیا کے پہلے کمرشل ایئر ٹیکسی ورٹی پورٹ کی منظوری دے دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے کمرشل ورٹی پورٹ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے شہری فضائی نقل و حمل کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) نے اعلان کیا کہ اسکائی پورٹس انفراسٹرکچر کی جانب سے تیار کردہ VDX ورٹی پورٹ کو الیکٹرک عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ (eVTOL) طیاروں کی کمرشل آپریشنز کے لیے سرکاری سرٹیفکیشن جاری کر دی گئی ہے۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب قائم یہ ورٹی پورٹ دبئی کے مجوزہ ایئر ٹیکسی نیٹ ورک کا مرکزی مرکز ہوگا، جبکہ دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے اشتراک سے مزید تین ورٹی پورٹس بھی زیرِ تعمیر ہیں۔

سرٹیفکیشن سے قبل انفراسٹرکچر، آپریشنل طریقہ کار، حفاظتی نظام، ہنگامی انتظامات اور ہوابازی کے ضوابط پر مکمل ریگولیٹری جائزہ لیا گیا۔

جی سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے کہا کہ دنیا کے پہلے خصوصی کمرشل ورٹی پورٹ کی منظوری متحدہ عرب امارات کے لیے ایک تاریخی کامیابی اور ہوابازی کے مستقبل میں اہم سنگِ میل ہے۔

انہوں نے کہا، "متحدہ عرب امارات صرف مستقبل کی ہوابازی کی تیاری نہیں کر رہا بلکہ اس کی سمت بھی متعین کر رہا ہے اور جدید فضائی نقل و حمل کے لیے نئے عالمی معیار قائم کر رہا ہے۔”

جی سی اے اے کے مطابق اس منظوری سے ثابت ہوتا ہے کہ کمرشل الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کے محفوظ آپریشن کے لیے ضروری ریگولیٹری فریم ورک مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے۔

چار منزلہ VDX ورٹی پورٹ تقریباً 3,100 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، جس میں دو مخصوص ٹیک آف اور لینڈنگ پیڈ، الیکٹرک طیاروں کے لیے فاسٹ چارجنگ سہولت اور مسافروں کی پروسیسنگ کا جدید نظام موجود ہے۔

کمرشل آپریشنز کے آغاز کے بعد اس مرکز سے سالانہ ایک لاکھ 70 ہزار مسافروں کو سہولت فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔

حکام کے مطابق یہ منصوبہ "وی دی یو اے ای 2031” وژن اور دبئی اکنامک ایجنڈا D33 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور معیشت کے تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button