
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے باعث زیادہ تر افراد گھر یا دفاتر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سارا دن بیٹھے رہنا یا جسمانی سرگرمی سے گریز کرنا صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق مسلسل غیر فعال طرزِ زندگی وزن میں اضافے، پٹھوں کی اکڑن، خون کی گردش میں کمی، وٹامن ڈی کی کمی، نیند کی خرابی، ذہنی دباؤ اور موڈ میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
شارجہ کے میڈکیر اسپتال کی داخلی امراض کی ماہر ڈاکٹر سلمیٰ خانم پٹن کا کہنا ہے کہ دوپہر کی شدید گرمی سے بچنا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جسمانی سرگرمی مکمل طور پر ترک کر دی جائے۔ ان کے مطابق ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں بھی باقاعدہ ورزش جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک بیٹھے رہنے سے پٹھوں کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، خون کی روانی سست پڑ جاتی ہے، کمر اور گردن میں درد، جسم میں اکڑن اور لچک میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ قدرتی دھوپ سے دور رہنے کے باعث جسم کی حیاتیاتی گھڑی بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے نیند کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
راک اسپتال کی ایمرجنسی میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر زارا احمد کے مطابق گرمیوں میں جسمانی سرگرمی کم ہونے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے بڑھنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جبکہ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیپ ٹاپ، موبائل فون یا ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے آنکھوں پر دباؤ، سر درد، جسمانی ساخت میں خرابی اور نیند متاثر ہونے جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے سخت ورزش ضروری نہیں، بلکہ روزانہ باقاعدگی سے 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی، اسٹریچنگ اور ہلکی پھلکی طاقت بڑھانے والی ورزش بھی کافی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ صبح سویرے یا شام کے وقت باہر ورزش کی جائے، جبکہ شدید گرمی کے دوران شاپنگ مال میں واک، جم، درجہ حرارت کنٹرول شدہ سوئمنگ پول، یوگا، پیلیٹس یا گھر میں ورزش بہتر متبادل ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق بالغ افراد کو ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی اور ہفتے میں کم از کم دو دن پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزش کرنی چاہیے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مریض نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر باہر ورزش کے دوران چکر آنا، سر درد، متلی، الجھن، پٹھوں میں کھنچاؤ یا شدید تھکن محسوس ہو تو فوراً ورزش روک دیں، ٹھنڈی جگہ منتقل ہوں، پانی پئیں اور ضرورت پڑنے پر طبی امداد حاصل کریں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرمی سے ضرور بچیں، لیکن جسمانی سرگرمی ترک نہ کریں، کیونکہ باقاعدہ حرکت ہی گرمیوں میں جسمانی اور ذہنی صحت برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔







